'شمالی کوریا آمد اعزاز کی بات ہے'

صدر ٹرمپ نے کم جونگ ان سے اپنی دوستی کی تجدید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی موقع ہے کہ میں کم کے ساتھ واک کرتا ہوا شمالی کوریا میں داخل ہوا ہوں.

صدر ٹرمپ پہلے امریکی صدر ہیں جنھوں نے شمالی کوریا کی سرزمین پر قدم رکھا ہے۔

کم جونگ ان سے ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں غیر فوجی علاقے کے اس پار شمالی کوریا میں موجود ہوں۔

صدر ٹرمپ ہفتے کو دو روزہ دورے پر جنوبی کوریا پہنچے تھے، اس دورے کا مقصد شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو روکنا ہے۔

خیال رہے کہ صدر ٹرمپ جی 20 ممالک کے سربراہ اجلاس کے لیے جاپان میں موجود تھے، انھوں نے شمالی کوریا کے رہنما کو جنوبی کوریا کے بارڈر پر ملاقات کی دعوت دی تھی۔

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے صدر ٹرمپ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے ٹرمپ کا دلیرانہ اقدام قرار دیا، انھوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر ایک نئے سفر کا آغاز کیا جائے۔

امریکہ کا یہ مطالبہ رہا ہے کہ پابندیوں سے بچنے کے لیے شمالی کوریا اپنے ایٹمی ہتھیار تلف کرے۔

دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ دو سال کے دوران اس ضمن میں مذاکرات کے دو دور ہو چکے ہیں،

ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ یہ ملاقات قابل قبول جوہری معاہدے کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے دوران شمالی کوریا کے رہنما بھی کچھ دیر کے لیے جنوبی کوریا کی حدود میں موجود رہے۔