امریکہ کی گرین لینڈ میں خصوصی دلچسپی

گرین لینڈ ڈنمارک کا خود مختار جزیرہ ہے جو قدرتی معدنیات سے مالا مال ہے۔ بحر منجمد شمالی میں جیسے جیسے برف کی تہیں پگل رہی ہیں اس خطے کی اہمیت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

ڈنمارک کا یہ خود مختار جزیرہ قدرتی معدنیات سے مالا مال ہے۔

اس جزیرے کا نام 'گرین لینڈ' (سرسبز زمین) ہے لیکن حقیقت میں اس علاقے کا 85 فیصد رقبہ برف سے ڈھکا ہوا ہے۔

گرین لینڈ کی آبادی 55 ہزار افراد سے زائد ہے جن میں سے 17 ہزار دنیا کے اِس سب سے بڑے جزیرے کے دارالحکومت نیوک میں ہی آباد ہیں۔

جنگ عظیم دوم سے ہی گرین لینڈ امریکہ کے دفاع کے لیے انتہائی اہم رہا ہے۔ یہاں سے نازی جرمنی کے جہاز اور آبدوزوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاتی تھی۔

امریکی فضائیہ نے 1943 میں گرین لینڈ کے ساحلی علاقے تھولے میں اپنا ایئر بیس بنایا تھا۔ اس بیس سے سرد جنگ کے زمانے میں روسی حملوں کی نگرانی کی جاتی تھی۔

گرین لینڈ میں برف کی پرتوں کے پگھلنے کی رفتار میں 25 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے جو 20 سال قبل کے مقابلے میں پانچ فیصد زیادہ ہے۔

اس خطے میں تیل، گیس اور معدنیات کے بڑے ذخائر ہیں جبکہ سمندری حیات یعنی مچھلیاں، کیکڑے اور دیگر بھی یہاں بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ گرین لینڈ کی زمین میں سونا، یورینیم اور قیمتی پتھر بھی موجود ہیں جبکہ بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے یہاں موجود لوہا، المونیم، تانبے، پلاٹینیم، ٹیٹینیم اور دیگر دھاتوں کے ذخائر توجہ کا مرکز ہو سکتے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ خریدنے کی بات امریکہ کی جانب سے پہلی بار نہیں کی گئی۔ اس سے قبل بھی ایسا ہو چکا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ وہ جزیرہ 'گرین لینڈ' خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ تاہم ڈنمارک نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جزیرہ فروخت کے لیے نہیں ہے۔