شیخ ابراہیم ذوق

Ibrahim Zauq

شیخ ابراہیم ذوق، اردو ادب کا ایک اہم نام, غالب کے ہم عصر شعراٴ میں نمایاں مقام کے حامل

گنوا دی ہم نےجو اسلاف سے میراث پائی تھی

ثرّیا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

حکومت کا تو کیا رونا کہ وہ اک عارضی شے تھی

نہیں دنیا کے آئین مسلم سے کوئی چارا

مگر وہ علم کے موتی ، کتابیں اپنے آباٴ کی

جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ

شیخ ابراہیم ذوق، اردو ادب کا ایک اہم نام ہے۔ غالب کے ہم عصر شعراٴ میں نمایاں مقام کے حامل تھےبلکہ بعض ناقدین کے بقول اس دور میں غالب سے زیادہ معروف تھے۔ انہوں نے زبان و بیان میں نئی نئی اختراعات کیں اور قدرے نکھرا ہوا اسلوب سامنے لائے ،ان کی شاعری کو صفائی زبان اور پاکیزگئ خیال کی شاعری کہا جاتا ہے۔

ہمارے شعر سن کر ذوق جیسے بزم عالم میں

ہوئے قائل ہیں اب اہل نظر ،ایسے نہ ہوتے تھے

۔۔۔۔۔۔

موا جانا ہے مجھے غیروں نے اے ذوق

کہ پھرتے ہیں خوش و خرم ابھی سے


آڈیو رپورٹ سنیئے -

Your browser doesn’t support HTML5

ابراہیم ذوق