رسائی کے لنکس

افغان حکومت اور حکمت یار کے مابین امن معاہدہ طے: رپورٹ


فائل

فائل

طویل مدت سے تاخیر کے شکار مذاکرات کے بارے میں یہ نئی توقعات اُس وقت پیدا ہوئیں جب جمعے کی رات گئے روپوش جنگجو سردار کے بیٹے، حبیب الرحمٰن حکمت یار نے اپنے سرکاری فیس بک پیج پر اِس بات کا اعلان کیا

اعلیٰ افغان اہل کاروں اور حکومت مخالف مسلح گروپ کے نمائندوں نے، جن کی قیادت جنگجو سردار گلبدین حکمت یار کر رہے ہیں، طویل مدت سے جاری امن مذاکرات میں پیش رفت کے حصول کی اطلاع دی ہے، اور اس توقع کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ دونوں فریق سمجھوتے پر دستخط کرنے والے ہیں، عین ممکن ہے کہ ہفتے ہی کے روز دستخط ہو جائیں۔

صدر اشرف غنی کی قومی وحدت پر مبنی حکومت نے کئی ماہ سے حکمت یار کے حزب اسلامی (ایچ آئی اے) دھڑے کے ساتھ بات چیت جاری رکھی ہے، جس امن عمل کی راہ میں بارہا نااتفاقی سامنے آئی، جس کے سبب یہ مذاکرات تعطل کا شکار رہے۔

طویل مدت سے تاخیر کے شکار مذاکرات کے بارے میں یہ نئی توقعات اُس وقت پیدا ہوئیں جب جمعے کی رات گئے روپوش جنگجو سردار کے بیٹے، حبیب الرحمٰن حکمت یار نے اپنے سرکاری فیس بک پیج پر اِس بات کا اعلان کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ حزب اسلامی افغانستان اور حکومتِ افغانستان نے امن دستاویز کے مسودے کی شقوں سے اتفاق کر لیا ہے، ''اور اگر خدا نے چاہا، تو اِس کا اعلان ہفتے کو کیا جا سکتا ہے''۔

حکمت یار کا بیٹا، جو حزب اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کا حصہ نہیں، کہا ہے کہ ''امن سمجھوتے پر میں (افغان) قوم، تمام مسلمانوں اور حزب اسلامی کے ارکان کو مبارکباد دیتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ یہ معاہدہ لڑائی کے خاتمے، امن لانے اور (افغانستان سے) بیرونی مداخلت ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا''۔

ایک صدارتی ترجمان، شاہ حسین مرتضوی نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا کہ 'ایچ آئی اے' کی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ بات چیت میں قابلِ قدر پیش رفت ہوئی ہے، اور آج کے دِن مزید پیش رفت ہو سکتی ہے۔

مزید تفصیل نہ بتاتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ ''ہم نے خاصی پیش رفت دکھائی ہے اور توقع ہے کہ آج کے دِن کے باقی وقت میں مزید پیش رفت حاصل ہوگی''۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG