رسائی کے لنکس

اسکول بس حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 34


اسکول بس حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 34

اسکول بس حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 34

اسلام آباد کو لاہور سے ملانے والی ایک مرکزی شاہراہ موٹروے پر کلرکہار کے مقام پر پیر کی رات اسکول کی ایک بس الٹنے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 34 ہو گئی ہے جن میں 31 طالب علم شامل ہیں۔ بس حادثے میں پچاس سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جو مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں سے بیشتر کی نمازہ جنازہ منگل کو فیصل آباد میں ادا کی گئی اور شہر میں فضا سوگوار ہے جب کہ مقامی انتظامیہ کی طرف سے عام تعطیل کے اعلان کے بعد تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے اور دفاتر بند رہے۔

موٹروے پولیس کے ترجمان جاوید چوہدری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ گاڑی میں فیصل آباد کے ’ملت گرامر‘ اسکول کے 105 طالب علم، چار اساتذہ اور بس عملے کے دو افراد سوار تھے۔ طالب علم سیر و تفریح کے لیے کلر کہار گئے تھے کہ واپسی پر یہ حادثہ پیش آیا۔

اُنھوں نے بتایا کہ بس خاصی پرانی تھی اور بریک فیل ہونے کے سبب یہ حادثہ پیش آیا۔ جاوید چوہدری نے بتایا کہ 1997ء میں وفاقی دارالحکومت کو لاہور سے ملانے والی موٹروے کی تعمیر کے بعد یہ اس شاہراہ پر پیش آنے والا بدترین حادثہ ہے۔ ’’2005ء میں اسی علاقے میں راولپنڈی کے ایک اسکول کی بس کو حادثہ پیش آیا تھا جس میں 14 بچے ہلاک ہو گئے تھے۔‘‘

موٹروے پر اکثر حادثات کلر کہار کے قریب سالٹ رینج میں پیش آتے ہیں جہاں پہاڑ کو کاٹ کر سڑک بنائی گئی تھی اور یہاں بہت سے خطرناک موڑ بھی ہیں۔

فیصل آباد کی انتظامیہ کے علاوہ موٹر وے پولیس نے بھی اس حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ موٹر وے پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اب تک پیش آنے والے حادثات کے تناظر میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ پرانی بسوں کو موٹر وے پر داخل نا ہونے دیا جائے۔

XS
SM
MD
LG