رسائی کے لنکس

این آر او فیصلے پرعمل درآمد کے لیے ایک ہفتے کی مہلت


این آر او فیصلے پرعمل درآمد کے لیے ایک ہفتے کی مہلت

این آر او فیصلے پرعمل درآمد کے لیے ایک ہفتے کی مہلت

سپریم کورٹ نے قومی مصالحتی آرڈیننس یا این آر او کے بارے میں اپنے فیصلے پر اب تک من و عن عمل درآمد نا ہونے پر متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ 10 جنوری کو عدالت میں پیش ہو کر اس بارے میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کریں۔

جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے منگل کو سماعت کے دوران اٹارنی جنرل پر واضح کیا کہ این آر او کو کالعدم قرار دیئے جانے کے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے حکومت کو آخری مہلت دی جا رہی ہے اور اگر اب بھی کارروائی نا کی گئی تو مجاز حکام چاہے کتنے ہی با اختیار کیوں نا ہوں ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

عدالت نے اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق سے استفسار کیا کہ صدر آصف علی زرداری کے خلاف بیرون ملک قائم بدعنوانی کے مقدمات کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط کیوں نہیں لکھا گیا تو اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کیوں کہ حکومت نے سپریم کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کر رکھی تھی اس لیے خط لکھنے کا معاملہ موخر کیا گیا۔

جس پر جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ نظر ثانی کی درخواست کا فیصلہ آئے بھی کئی دن ہو گئے ہیں اس لیے خط نا لکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے سیکرٹری قانون کو حکم دیا کہ آئندہ سماعت کے موقع پر سوئس حکام کو خط لکھنے کے بارے میں اقدامات سے عدالت کو آگاہ کیا جائے۔

عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین، پراسیکیوٹر جنرل اور سیکرٹری قانون کو بھی حکم دیا کہ وہ 10 جنوری کو عدالت میں پیش ہو کر این آر او کے تحت ختم کیے گئے مقدمات کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے اب تک کے اقدمات سے عدالت کو آگاہ کریں۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے لارجر بینچ نے 16 دسمبر 2009ء کو این آر او کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس قانون سے مستفید ہونے والے آٹھ ہزار سے زائد افراد بشمول صدر آصف علی زرداری کے خلاف ختم کیے گئے مقدمات کو بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔

وفاق نے اس فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں نظرثانی کی درخواست دائر کر دی تھی لیکن دسمبر 2011ء میں عدالت نے حکومت کی اپیل خارج کرتے ہوئے اپنا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں صدر زرداری کے خلاف قائم بدعنوانی کے مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے وفاقی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ سوئس حکام کو خط لکھیں۔

حکمران جماعت پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ آئین کے تحت صدر زرداری کو کسی بھی طرح کی عدالتی کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہے اس لیے ان کے خلاف مقدمات نہیں کھولے جا سکتے ہیں۔

لیکن 14 دسمبر 2011ء کو عدالت عظمیٰ نے صدر زرداری، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور صوبائی گورنروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ وہ این آر او کے بارے میں عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر اب تک عمل درآمد نا ہونے کی وضاحت کریں۔

XS
SM
MD
LG