رسائی کے لنکس

سارا کھیل حلقہ بندیوں کا ہے:تجزیہ کار

  • بہجت گیلانی

سارا کھیل حلقہ بندیوں کا ہے:تجزیہ کار

سارا کھیل حلقہ بندیوں کا ہے:تجزیہ کار

ایم کیو ایم کو کراچی، حیدرآباد کا کنٹرول مل جائے گا اور پیپلز پارٹی کو ایم کیو ایم کا تعاون، اور شہر میں امن ہوجائے گا۔ آپ دیکھئے گا کہ صورتِ حال وقت کے ساتھ بہتر ہوجائے گی، کیونکہ ایم کیو ایم کا مطالبہ مان لیا گیا ہے: ڈاکٹر حسن عسکری رضوی

سیاسی تجزیہ کار حسن عسکری رضوی کراچی اور حیدرآباد میں ضلعی حکومتوں کو بحال کرنے کے فیصلے کو ’سیاسی مصلحت‘ قرار دیتے ہیں۔

اتوار کو ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں ڈاکٹر رضوی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو تعاون درکار تھا اور ایم کیو ایم کو اِس بات کی ضرورت تھی کہ اُن کا اِن دونوں شہروں پر کنٹرول رہے، جِس کے لیے دونوں نے مل کر ایک سیاسی فیصلہ کیا ہے ۔

اُن کے الفاظ میں ’اُن (ایم کیو ایم) کو کنٹرول مل جائے گا اور پیپلز پارٹی کو ایم کیو ایم کا تعاون مل جائے گا، اور شہر میں امن ہوجائے گا۔ آپ دیکھئے گا کہ صورتِ حال وقت کے ساتھ بہتر ہوجائے گی، کیونکہ ایم کیو ایم کا مطالبہ مان لیا گیا ہے‘۔

تجزیہ کار طلعت وزارت کے مطابق صوبے میں ایک ہی طرح کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے انتظامی امور میں مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ اُن کے الفاظ میں: ’پورے صوبے میں ایک ہی نظام ہونا چاہیئے۔ مجھے خدشہ ہے کہ اِس سارے کنفیوژن کی وجہ سے عمل داری پر مزید اثر پڑے گا اور(صورتِ حال) مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے‘۔

حسن عسکری رضوی کے مطابق پرانے نوابشاہ کو حیدرآباد میں شامل کرنے کا فیصلہ مصلحت کے تحت ہے۔ اُن کے بقول، حیدرآباد کے اِرد گِرد کے علاقے تھے اُن میں کچھ تبدیلیاں کی گئی تھیں ماضی میں اُس کو حیدرآباد میں شامل کیا گیا۔ کچھ کو علیحدہ کیا گیا۔ یہ سارا حلقہ بندیوں کا کھیل ہے۔ ایم کیو ایم کی جو سیاست ہے وہ کیونکہ شہری سندھ ہی سے چلتی ہے، لہٰذا وہ یہ نہیں چاہتے کہ جو اُن کو اِس وقت چیلنجز اُبھر رہے ہیں کہ اُن کی اجارہ داری کو چیلنجز پیدا ہورہے ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ یہ چیلنجز اُن کو نقصان پہنچائیں۔ اِس لیے انھوں نے یہ سمجھوتا کیا ہے‘۔

اور تجزیہ کار طلعت وزارت کا کہنا تھا کہ اِس تبدیلی کی وجہ ’استدلالی نہیں بلکہ انفرادی سطح پر مخصوص مفادات‘ معلوم ہوتے ہیں۔ اُن کے بقول، مجھے نہیں معلوم کہ اِس کے اثرات عمل داری پر کیا ہوں گے؟ ابھی تک مجھے اِس کے فائدے تو واضح طور پر نظر نہیں آرہے۔

پاکستان کی قیادت کے مطابق، متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ حالیہ فیصلے کراچی میں امن اور استحکام کے لیے کیے گئے۔

طلعت وزارت کا کہنا تھا کہ ’امن و امان والی صورتِ حال کے بہت سے عناصر ہیں۔ خالی یہ عنصر نہیں تھا جِس کی وجہ سے یہاں پر مسئلہ کھڑا ہوگیا تھا امن و امان کا۔ بہت سےاور مسائل یہاں (ہیں)۔ مجھے خوشی ہوتی اگر حکومت اور ایم کیو ایم مل کر اِس مسئلے کو حل کرلیتے اور امن قائم ہوجاتا صوبے میں تو یہ بہت اچھی بات ہوتی۔ لیکن یہ ایک بہت پیچیدہ معاملہ ہے جِس میں سیاسی عزم بھی درکار ہے، حکمت عملی بھی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کے بیٹھنے کی بھی ضرورت ہے۔۔۔لیکن، بہتری کی امید کرنی چاہیئے‘۔

تجزیہ کار سلیم بخاری اِس فیصلے اور اِس کے مضمرات کا تجزیہ کرتے ہوئے کہتےہیں کہ ’پہلی بات تو یہ ہے کہ اِس طرح سے ملک کو اور ملک کے صوبوں کو دو دو قوانین سے یا دو دو سسٹمز سے چلانے کی کوشش کی جارہی ہے، جو عمل کے قابل ہی نہیں ہے۔ ہم دیکھیں گے آنے والے وقت میں کہ اِس کے کتنے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں‘۔

دوسری طرفِ سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی مفاہمت کوئی نئی بات نہیں، ’پچھلے تین سال میں یہ پانچویں مفاہمت ہے‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ، ’ جب تک کراچی کے اور سندھ کے سارے اسٹیک ہولڈرز مل کے، اُن کے اتفاقِ رائے سے کوئی ایک فیصلہ نہیں ہوجاتا، اُس کے اوپر عمل درآمد نہیں ہوگا، کراچی یا سندھ کی صورتِ حال کبھی بہتر نہیں ہوسکتی‘۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG