رسائی کے لنکس

کراچی میں جاری جنگ إِس پر ہے کہ کراچی کس کا ہے: تجزیہ کار

  • یاسمین جمیل

فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی کے مسئلے کا حل اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک سیاسی جماعتیں اپنا وطیرہ نہیں بدلتیں اور اپنی اسکور سیٹلنگ سڑکوں پر نہیں کرتیں: ہما بقائی

جو کوئی بھی کراچی کےحالات پرنظررکھتا ہےوہ جانتا ہےکہ کراچی میں مسئلہ سیاسی نہیں، بلکہ کراچی میں جاری جنگ إِس بات پر ہے کہ، ’ کراچی کس کا ہے؟‘

کراچی کی معروف سیاسی تجزیہ کار اور انسٹیٹوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کی پروفیسر، ڈاکٹر ہما بقائی کا کہنا ہےکہ کراچی کے بہت سے مسائل کے ساتھ ساتھ اب سیاسی اختلافات بھی منسلک ہوگئے ہیں۔

اِس ضمن میں، جمعے کو ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں ہما بقائی نے نئی آبادیوں، نئے انتخابی حلقوں اور لینڈ مافیا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے مضافات میں جو، اُن کے بقول، ڈرامہ ہے، وہ بنیادی طور پر تین سیاسی اکائیوں کا معاملہ ہے جِن کی آپس میں رسہ کشی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ کراچی کے جو بہت سارے مسائل ہیں اور اُس کے ساتھ جو کراچی کی آبادی کی سیاسی تقسیم ہے وہ، ’ آپس میں جُڑ گئی ہے‘۔

ہما بقائی کے بقول، کراچی میں جو جماعتیں سیاست کرتی ہیں وہ جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی کرتی ہیں اور اُن کے بل پر سیاست کرتی ہیں، اور یہ جماعتیں اِن عناصر پر واضح کنٹرول رکھتی ہیں، اور تشدد کی فضا پھیلاتی ہیں۔

اُنھوں نے اِس بات کی طرف بھی نشاندہی کی کہ کراچی کی جتنی بھی سیاسی جماعتیں ہیں اُن سب کے ’لڑاکا وِنگ ‘ ہیں جو اپنے ’اسکور سیٹلنگ‘کے لیے پارلیمان کو نہیں بلکہ ’اسٹریٹ‘ کو استعمال کرتی ہیں۔ اُن کے الفاظ میں: ’کراچی میں وہ طاقت ور ہے جو کراچی کا امن تباہ کرسکتا ہے۔‘

ہما بقائی نے کہاکہ کراچی کے مسئلے کا حل اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک سیاسی جماعتیں اپنا وطیرہ نہیں بدلتیں اور اپنی اسکور سیٹلنگ سڑکوں پر نہیں کرتیں۔

اُنھوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو ’اکاؤنٹ ایبل‘ کرنا پڑے گا جو اِن عناصر کی پشت پناہی کرتی ہیں، جِس میں حکومتی جماعتیں شامل ہیں۔ہما بقائی نے کہا کہ کراچی کا مسئلہ اُس وقت تک حل نہیں ہوگا جب تک عام ووٹرز کھل کر کراچی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے اپنے ووٹ کی طاقت استعمال نہیں کریں گے۔

اُدھر، پاکستان انسٹی ٹیوٹ فور ڈولیپمنٹ اکانامکس کے سربراہ، ڈاکٹر ظفر معین کا کہنا تھا کہ کراچی جو، پاکستان کا اقتصادی گڑھ ہے، وہاں امن و امان کی خراب صورتِ حال سے کراچی کی معیشت ہی نہیں بلکہ پورے ملک کی معیشت متاثر ہوتی ہے اور بین الاقوامی طور پر بھی ایک غلط سگنل جاتا ہے۔

ڈاکٹر ظفر معین نے کہا کہ امن و امان کی صورتِٕ حال کا خراب اثر قومی کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر جاتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ میڈیا کا دور ہے، اور یہ چیزیں اتنی ’ہائی لائٹ‘ ہو جاتی ہیں کہ پھر آدمی کو اِس دام میں سے نکلنا مشکل ہوجاتا ہے۔

اُن کے بقول، سیاسی لیڈروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ إِس طرح کی صورتِ حال نہ پیدا ہو اور اگر پیدا ہو بھی رہی ہو تو اُس کو مناسب طریقے سے طے کیا جائے، تاکہ کراچی، جسے روشنیوں کا شہر کہا جاتا ہے، وہاں حالات سازگار رہیں۔

ڈاکٹر ظفر معین کا کہنا تھا کہ اگر حکومت ہڑتالوں پر کنٹرول کرلے تو کراچی کی معیشت کا پہیہ چلتا رہنے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

متعلقہ

XS
SM
MD
LG