رسائی کے لنکس

کراچی میں قتل کی وارداتوں پر سیاسی جماعتوں کی الزام تراشی


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان حالیہ کشیدگی میں ایک ایسے وقت اضافہ ہو گیا ہے جب صدر زرداری نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر منگل کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ کراچی کی صورت حال مرکز میں حکمران پیپلز پارٹی کے لیے اس لیے بھی پریشانی کا باعث ہے کہ جون میں جب حکومت قومی بجٹ پارلیمان میں پیش کرے گی تو اُس کی منظوری کے لیے ایم کیو ایم کی حمایت ناگزیر ہو گی۔

پاکستانی معیشت کی شاہ رگ سمجھے جانے والے شہر کراچی میں سیاسی کارکنوں کے قتل کا سلسلہ جاری ہے اور بڑی سیاسی جماعتیں صورت حال کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہی ہیں۔

حکمران پیپلز پارٹی اور اس کی حلیف جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے درمیان گذشتہ دنوں طے پانے والے ایک اور مفاہمتی سمجھوتے کے بعد کراچی میں امن وامان کی صورت حال میں بہتری کی اُمید پیدا ہوگئی تھی۔ لیکن ان کے درمیان مفاہمت کے معاہدے پر دستخطوں کی سیاہی ابھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ نامعلوم مسلح افراد نے ایک بار پھر شہر کے مختلف حصوں میں خصوصاََ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو ہدف بنا کر قتل کرنے کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا۔

گذشتہ ایک ہفتے کے دوران مقامی میڈیا کے مطابق تشدد کی ان کارروائیوں میں لگ بھگ 50 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور پولیس حکام کے مطابق مرنے والوں میں متحدہ قومی موومنٹ، پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں کے علاوہ خود پولیس کے حاضر سروس اور سابقہ افسران بھی شامل ہیں۔

ہر واردات کے بعد ’ٹارگٹ کلرز‘ کے نام سے مشہور مسلح افراد فرار ہو جاتے ہیں اور اگر ان میں سے کسی کو گرفتار کر بھی لیا جائے تو سیاسی دباؤ کے تحت پولیس اتنا کمزور کیس درج کرتی ہے کہ قاتلوں کو سزا نہیں ہو پاتی اور وہ باآسانی چھوٹ جاتے ہیں۔

کراچی پولیس کے سربراہ سعود مرزا نے پیر کو ایک نیوز کانفرنس میں ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ پچھلے 15 ماہ کے دوران ٹارگٹ کلنگ کی کم سے کم 30 وارداتوں میں ملوث 12 افراد پر مشتمل ایک گروہ کے کچھ ارکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن سے تفتیش کے دوران مزید اہم معلومات ملنے کی توقع ہے۔

متحدہ قومی مومنٹ کے قائدین نے اس مرتبہ منشایت فرشوں اور قبضہ گروپ پر ان واقعات کا الزام لگانے کے بجائے براہ راست صوبائی وزیر داخلہ پر ان کی ذمہ داری عائد کی ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے سربراہ صدر آصف علی زرداری کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی بنیادی وجہ ہیں۔ لیکن پیپلز پارٹی کے نمائندے اس کے برعکس ایم کیو ایم کو کراچی کے حالات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں شدت تین سال قبل اُس وقت آئی جب عام انتخابات کے بعد صوبے میں پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت قائم کی۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ دو اتحادی جماعتیں درپردہ کراچی میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی کوشش میں ہیں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بھی انھیں کوششوں کا سلسلہ ہے۔

پچھلے تین سالوں کے دوران سینکڑوں افراد کراچی میں سیاسی مفادات کی اس جنگ کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ایم کیو ایم سے اختلافات دور کرنے کے لیے جنوری میں جماعت کے مرکزی دفتر کا دورہ بھی کیا تھا۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ایم کیو ایم سے اختلافات دور کرنے کے لیے جنوری میں جماعت کے مرکزی دفتر کا دورہ بھی کیا تھا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ ابتدا میں وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک اور خود ایم کیو ایم ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی ذمہ داری طالبان عسکریت پسندوں پر ڈالتے رہے ہیں لیکن اب وہ بیان پس پردہ چلے گئے ہیں اور دونوں جماعتیں براہ راست ایک دوسرے کو کراچی کے بگڑتے ہوئے حالات کی ذمہ دار قرار دے رہی ہیں۔

پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان حالیہ کشیدگی میں ایک ایسے وقت اضافہ ہو گیا ہے جب صدر زرداری نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر منگل کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ کراچی کی صورت حال مرکز میں حکمران پیپلز پارٹی کے لیے اس لیے بھی پریشانی کا باعث ہے کہ جون میں جب حکومت قومی بجٹ پارلیمان میں پیش کرے گی تو اُس کی منظوری کے لیے ایم کیو ایم کی حمایت ناگزیر ہو گی۔

XS
SM
MD
LG