رسائی کے لنکس

اس دستاویز کا بنیادی مقصدتمام اتحادی قوموں میں سے کبھی نہ ختم ہونے والے نسلی، مذہبی، لسانی یا رنگ اور جنس کی بنیاد پر پائے جانے والے تعصب کو ختم کرنا ہے

ملکہٴبرطانیہ نے دولت مشترکہ کے سربراہ کی حیثیت سے اکیسویں صدی کی ایک تاریخی دستاویز پر دستخط کردیے ہیں۔
اس دستاویز کابنیادی مقصد تمام اتحادی قوموں میں سے کبھی نہ ختم ہونے والے نسلی، مذہبی، لسانی یا رنگ اور جنس کی بنیاد پر پائے جانے والے تعصب کو ختم کرنا ہے یا پھر سیاسی منافرت کی وجہ سے یا 'دیگر بنیاد' پر لوگوں سے ان کے انسانی حقوق چھیننے سے متعلق روئے کے خلاف ملکر آواز بلند کرنا ہے۔ جبکہ، کچھ سیاسی حلقوں میں اس کی تشریح 'خواتین کے مساوی حقوق' اور 'ہم جنس پرستوں کے حقوق' کے حوالے سے بھی کی جارہی ہے۔
دولت مشترکہ کے خصوصی دن کے موقع پر مختلف تقریبات کا آغاز 11 مارچ سےشروع ہو کر 15 مارچ تک جاری رہے گا۔

اس سال کی تقریب اس لیے زیادہ یادگار مانی جارہی ہے کیوں کہ دسمبر کے مہینے میں آسٹریلیا میں ہونے والے دولت مشترکہ کے اجلاس میں پہلی بار تمام ممالک نےایک ہی دستاویز پر اتفاق رائے کا اظہار کیا تھا، جسے ملکہ برطانیہ کے دستخط کے بعد دولت مشترکہ کے واحد دستاویز کی حیثیت سے تسلیم کرلیا گیا ہے۔
پیر کے روز ملکہ برطانیہ کی صحت سے متعلق خبر نےدنیا بھر تشویش کی لہر پیدا کر دی تھی۔

جب لندن میں دولت مشترکہ کے خاص دن کی تقریب کے موقع پر شاہی محل کی جانب سے ملکہ برطانیہ کی شمولیت کو اچانک منسوخ کرتے ہوئےاس وقت معذرت مانگ لی گئی جب تقریب شروع ہونے میں محض چند گھنٹے باقی رہ گئے تھے۔
ملکہ برطانیہ گذشتہ ہفتے پیٹ کی سوزش کے باعث ایک روز ہسپتال میں زیر علاج رہ چکی ہیں، جس بنا پر اُن کی تمام شاہی مصروفیات منسوخ کر دی گئی تھیں۔ اس لحاظ سے یہ پہلی تقریب تھی جس میں ان کی شمولیت کی خبر کی تصدیق خود بکنگھم پیلس کے ترجمان کی جانب سے کی گئی تھی۔
پیر کی صبح گیارہ بجے بکنگھم پیلس کے ذرائع نےبتایا کہ،'افسوس کے ساتھ یہ اطلاع دی جارہی ہے کہ ملکہ برطانیہ دولت مشترکہ کے خاص دن کی تقریب میں شریک نہیں ہو سکیں گی اور اپنے ڈاکٹر کے مشورے پر آرام جاری رکھیں گی ۔'
اس تقریب میں ملکہ برطانیہ کے شوہر 91 سالہ شہزادہ فلپ نے شرکت کی، جبکہ ملکہ برطانیہ کا ایک ریکارڈ شدہ پیغام تمام نشریاتی ادروں نے براہ راست نشر کیا۔
ادھر برطانوی مبصرین کا کہنا ہے کہ ملکہ کا دولت مشترکہ کی دستاویز پر دستخط کرنا دراصل خواتین کو ہر پلیٹ فارم پرمردوں کے مساوی درجہ دلانے کی جانب ایک قدم ہے جبکہ وہ اس بات کو منسوب کر رہے ہیں شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ کے گھر پیدا ہونے والے پہلے بچے کی پیدائش سے بھی، جہاں تاج برطانیہ کے فرسودہ قانون کے مطابق بادشاہت کا حق صرف اولاد نرینہ کو حاصل ہے۔
اس قانون میں ترمیم کےمسودے پر برطانیہ کے ایوان زیریں میں قانون سازی کی جارہی ہے، جس کے منظور ہوجانے کے بعد اگر شہزادی کیٹ ایک بیٹی کی ماں بنتی ہیں تو ان کی پہلی بیٹی کو بادشاہت کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکے گا۔
اس دستاویز میں ہر قسم کے تعصب کو ختم کرنے کے ساتھ 'دیگر بنیاد' پر پائے جانے والے تعصب کی بات بھی کی گئی ہے، جسے ایک مکتب فکر انسانی حقوق خصوصاً 'گے' افراد کو معاشرے میں برابری کا حق دلوانے سے جوڑ رہا ہے جو تسلیم کرتے ہیں کہ ملکہ برطانیہ پہلی بار گے افراد کے حق کے لیے آواز بلند کرنے والی ہیں۔
جبکہ، دوسرا طبقہٴ فکر اس بات کو سراسر رد کر رہا ہے کہ ملکہ ہم جنس پرستوں کے متنازع مسئلے کو اس دستاویز کا حصہ نہیں بنائیں گی۔
دولت مشترکہ کے 54 ممالک میں سے صرف پانچ ممالک ایسے ہیں جہاں ہم جنس پرست قانونی طور پر باہمی تعلقات استوار کر سکتے ہیں، جسے سول پارٹنر شپ کا نام دیا جاتا ہے، جن میں برطانیہ بھی شامل ہے اور اسی برس گے میرج کو باقاعدہ سول شادی کا درجہ بھی دے دیا گیا ہے۔
دولت مشترکہ میں شامل 40 سے زائد اتحادی ملکوں میں یہ فعل غیرقانونی ہے اور اس فعل کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے باقاعدہ سزائیں رکھی گئیں ہیں۔ کئی اتحادی ممالک میں ایسے مجرموں کے لیے موت کی سزا تک موجود ہے، جبکہ بنگلا دیش اور ملائیشیا میں اس کے خلاف 25 برس کی جیل کی سزا ہے۔
دولت مشترکہ کا یہ اتحاد دنیا کے مختلف مذاہب، ذات، زبان اور ثقافت رکھنے والی ترقی یافتہ اور ترقی پذیر قوموں پر مشتمل ہے، جبکہ یہ دنیا کی دو بلین آبادی، یعنی 30 فیصد لوگوں کا اتحاد مانا جاتا ہے۔

اس تنظیم کے تمام انتظامی امور کا مرکز لندن میں واقع 'ویسٹ منسٹر ابے' سیکریٹریٹ ہے، جہاں ہر سال مارچ کے دوسرے ہفتے کی پیر کو دولت مشترکہ کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔
اس دستاویز کی بنیادی نکات میں انسانی حقوق کا تحفظ، برداشت، تحفظ اور احترام جیسی قدروں کو معاشرے میں عام کرنا، صحت عامہ، تعلیم، غذا کا حصول برابری کی بنیاد پر حاصل کرنا، اور اس کے علاوہ، معاشرے میں نوجوانوں کو اُن کے صحیح کردار سے آگاہ کرنا شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG