رسائی کے لنکس

logo-print

'سیاسی مفادات کے لیے سوشل میڈیا سے ڈیٹا خریدا جا رہا ہے'


سوشل میڈیا ایک رحمت ہے یا ایک زحمت، خاص طور جب اسے سیاست میں اپنے مخالفین کو نیچا دکھانے اور خود اپنی آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے کے لئے عام آدمی کی سرگرمیوں اور خیالات سے متعلق ان کمپنیوں سے ڈیٹا خریدنے کی غرض سے استعمال کیا جائے۔ جو کہ غیر اخلاقی اور ہر ضابطے کے خلاف ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس سلسلے میں دنیا بھر میں قانون سازی ہونی چاہئیے۔ کیونکہ اس سے عام آدمی کی رازداری کی کھلی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

سوشل میڈیا کے ایک ماہر اور میری ٹائم اسٹڈی فورم کے سلمان جاوید نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا اس کے باوجود بھی کہ اسے بعض اوقات غیر ذمہ داری سے استعمال کیا جاتا ہے۔ سیاسی ابلاغ کے نقطہ نظر سے اتنا نقصان دہ نہیں ہے، جتنا کہ اس کا مختلف ذرائع سے ڈیٹا حاصل کر کے سیاسی جماعتوں یا اپنے کاروباری مفادات رکھنے والوں کو یہ ڈیٹا فروخت کرنا ہے، جیسا کہ امریکہ کے پچھلے صدارتی انتخاب میں مبینہ طور پر ہوا۔

انہوں نے کہا کہ جرمنی سمیت بعض یورپی ممالک اس حوالے سے قانون سازی کی تیاریاں بھی کر رہے تھے، لیکن اچانک آنے والی کرونا وائرس کی وبا کے سبب بات آگے نہ بڑھ سکی۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا اس قسم کی قانون سازی سینسرشپ اور آزادی اظہار پر قدغن کے زمرے میں نہیں آئے گی تو انہوں کہا کہ اول تو یہ سیاسی یا کاروباری مقاصد کے لئے غیر قانونی طور پر حاصل کئے گئے ڈیٹا کی فروخت کے حوالے سے ہو گی، دوسرے اس سلسلے میں تمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر اسے کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ عالم انسانیت کے لئے بہت برا ہو گا۔ اگر رقم دے کر سیاسی جماعتیں، کاروباری گروپ یہاں تک کہ دہشت گرد گروپ بھی یہ ڈیٹا حاصل کرنے لگے تو دہشت گردوں کے ہاتھ میں ایک اور ہتھیار آ جائے گا۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایک اور ماہر اور بایٹس فار آل کے ہارون بلوچ نے اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ہو یا پاکستان یا دنیا کا کوئی اور ملک، سیاسی جماعتوں نے اپنی حکمت عملی بنانے کے مقصد سے یہ جاننے کے لئے کہ ان کے ملک کے لوگ اپنی نجی زندگیوں میں کس قسم کی باتیں کرتے ہیں، درحقیقت کس کے حامی ہیں اور انہیں کس طرح اپنی جانب راغب کیا جا سکتا ہے، ڈیٹا خریدنے کی راہ ڈھونڈ لی ہے جو ہر ضابطہ اخلاق کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیٹا فروخت کرنے والی کمپنیاں یہ ڈیٹا بھی غیر قانونی طریقے سے حاصل کرتی ہیں اور اسے کنٹرول کیا جانا بہت ضروری ہے۔ انہوں کہا کہ سوشل میڈیا کے مثبت پہلو بھی ہیں اور اگر سیاست میں اسی زاوئے سے اسے استعمال کیا جائے تو معاشروں میں بہت بہترین لائی جا سکتی ہے۔

اب اس کا انحصار دنیا بھر میں قائدین پر ہے کہ حالات معمول پر آنے کے بعد وہ اس مسئلے کو کس طرح سلجھاتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG