رسائی کے لنکس

logo-print

عالمی میڈیا بھی کرونا وائرس کا شکار ہو رہا ہے


آزادی صحافت کا دن منانے کے لیے صحافیوں کا مظاہرہ (فائل)

کرونا وائرس کی عالمی وبا جہاں زندگی کے ہر شعبے پر اثرانداز ہو رہی ہے، ذرائع ابلاغ کا شعبہ بھی اس سے مستثنٰی نہیں ہے اور دنیا بھر میں میڈیا پر کسی نہ کسی انداز میں اس کا منفی اثر نمایاں طور پر دیکھنے میں آ رہا ہے۔

انسانی حقوق کے گروپوں اور پریس کی آزادی کے لئے کام کرنے والے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا کی آڑ میں ذرائع ابلاغ کو سنسرشپ کا پابند بنانے کی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ ان کے مطابق، آمرانہ نوعیت کی حکومتیں پریس کا منہ بند کرنے کے لئے جابرانہ قوانین کا سہارا لے رہی ہیں۔

اس کا مظاہرہ چین سے اس وقت شروع ہوا جب ووہاں کے ایک ڈاکٹر کو جس نے اس وبا کے بارے میں ابتدا ہی میں خبردار کیا تھا، گرفتار کرلیا گیا تھا اور اس کے بعد ہی ایران ترکی اور تھائی لینڈ سمیت بہت سے ممالک میں نامہ نگاروں اور سوشل میڈیا میں سرگرم افراد کی گرفتاری عمل میں آنے لگی۔ اسی طرح کے اقدامات ہنگری میں بھی کئے گئے جہاں نئے ہنگامی قوانین سے مدد لی گئی۔

خبروں کے مطابق، دنیا بھر میں صحافیوں کو جو کرونا وائرس کی وبا کے بارے میں رپورٹنگ کر رہے ہیں پہلے ہی روکاوٹوں کا سامنا ہے، مثلاً جنوبی افریقہ اور ایران میں رپورٹروں پر غیر سرکاری ذرائع یا طبی ماہرین سے انٹرویوز کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ فلپائین میں بریفنگ میں صرف سرکاری میڈیا کو شرکت کی اجازت دی گئی ہے اور دوسرے ذرائع ابلاغ سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے سوالات پہلے سے داخل کریں۔

بھارت میں وزیر اعظم مودی نے سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کی کہ رپورٹوں کی اشاعت سے پہلے ان کی سرکاری کلئیرنس حاصل کی جائے، یہ درخواست اگرچہ رد تو کردی گئی لیکن اس پہ بھارتی پریس کو ایک لرزہ دینے والا پیغام ملا اور اس کا عکس بھارتی پریس میں دیکھنے میں آرہا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، کین روتھ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس قسم کے ماحول میں ارباب اقتدار لوگوں کے خوف اور ان کے اندیشوں سے غلط فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اور بہت زیادہ اختیارات حاصل کر لیتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کرونا وائرس کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک نئی دہشت گردی کی صورت سے تعبیر کیا جارہا ہے، جس کے پس پردہ حکومتیں بہت زیادہ اختیارات حاصل کرلیں اور پھر مصبیت ٹل جانے کے بعد بھی ان سے دست بردار ہونے سے انکار کر دیں۔

انھوں نے یاد دلایا کہ نائین الیون کے بعد ڈرون حملوں اور ضرورت سے زیادہ جاسوسی جیسے اختیارات واپس نہیں لئے گئے اور گوانتانامو جیسا حراستی مرکز بھی بدستور قائم ہے۔

ایسے گروپوں مثلاً امریکہ میں قائم الیکڑونک فرنٹیر فاوئڈیشن نے پہلے ہی اعداد و شمار اکھٹے کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، یاد رہے کہ اسرائیل، چین،جنوبی کوریا اور بہت سے یورپی ملکوں نے کرونا وائرس کے حوالے سے معلومات کے لئے سیل فون کے ڈیٹا کا استعمال کیا ہے۔ اس سے قطعہ نظر یہ ٹیکنالوجی کرونا وائرس کی وبا پر قابو پانے میں مدد دے رہی ہے۔ سوال یہ اٹھتا کہ ان اعداد و شمار کو بعد میں کس طرح اور کس مقصد کے لئے استعمال کیا جائے گا۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ کے سربراہ جوائیل سائمن کہتے ہیں اگر لیڈر حضرات صحافیوں کا ساتھ دینے میں ناکام رہتے ہیں تو پھر اس بحران کے بعد یہ دنیا بڑی مختلف دکھائی دے گی۔

دوسری جانب اس تشویش کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ نہیں پتہ کہ اس عالمگیر وبا کے اقتصادی اثرات سے کتنے میڈیا ہاوسز خود کو بچا سکیں گے۔ اس منظر نامے میں مبصرین کے مطابق کرونا وائرس کی وبا پوری دنیا میں میڈیا کے لئے بھی یقیناً خطرے کی ایک گھنٹی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG