رسائی کے لنکس

logo-print

مقامی افرادکا کہنا ہے کہ شامی حکومت گزشتہ دو ہفتوں سے مسلسل اسکولوں کو نشانہ بنارہی ہے اور وہ سمجھتی ہے کہ باغیوں نے اسکولوں میں پناہ لے رکھی ہے

شام میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے شمالی شہروں میں باغیوں کے ٹھکانوں پر شدید بمباری کی گئی تاہم فورسز نے کنٹرول سنبھال کر علاقے خالی کرا لیے ہیں۔

فورسز کی بمباری کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ متاثرہ علاقوں سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔

حلب سے40کلو میٹر فاصلے پر شمالی شام کے شہر میریا میں 21اگست کو فورسز کی ایک گھر پر بمباری کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور دیگر 8زخمی ہوگئے تھے۔

ایک تاجر صالح کا کہنا ہے کہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ نا جانے کیوں سیکیورٹی فورسز صدر بشار الاسد کی وفاداری کرتے ہوئے اپنے ہی لوگوں پر بمباری کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فورسز کی بمباری ثابت کرتی ہے کہ وہ معصوم لوگوں کا قتل عام کر کے طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں ۔

مقامی افرادکا کہنا ہے کہ شامی حکومت گزشتہ دو ہفتوں سے مسلسل اسکولوں کو نشانہ بنارہی ہے اور وہ سمجھتی ہے کہ باغیوں نے اسکولوں میں پناہ لے رکھی ہے۔

ایک دکاندار ابو اعلی کا کہنا ہے کہ گزشتہ 18ماہ سے حکومت اور باغیوں کے درمیان جاری جھڑپ کے نتیجے میں سب کچھ منجمند ہوکر رہ گیا ہے، تال رفعت کی اقتصادی ومعاشی صورتحال بہت خراب ہے، خوراک ختم اور دکانیں خالی ہو کر رہ گئی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت نےبری فوجیوں کو واپس بلا کر بڑے شہروں کو بچانے کیلئے مذکورہ علاقوں میں باغی رہنماؤں پر بمباری شروع کردی ہے۔

فورسز کی بمباری کا دفاع کرتے ہوئے شامی حکومت کا کہنا ہے کہ کئی دیہاتوں پر باغیوں کا قبضہ ہے جسے چھڑانے کیلئے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔
XS
SM
MD
LG