رسائی کے لنکس

logo-print

بیروت کار بم دھماکے میں آٹھ افراد ہلاک


بیروت میں کار بم دھماکے کے بعد

عرب اور لبنانی میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں وسام الحسن بھی شامل ہیں جو ایک انٹیلی جنس یونٹ کے سربراہ تھے جو ممکنہ طور پر وہ اس حملے کا ہدف تھے۔

بیروت میں جمعے کے روز رش کے اوقات میں ایک طاقت ور بم کار دھماکے سے کم ازکم آٹھ افراد ہلاک ہوگئے جن میں ملکی انٹیلی جنس کے سربراہ بھی شامل ہیں۔

عیسائی اکثریتی ضلع میں ہونے والے اس دھماکے سے بہت سے لوگ زخمی ہوئے اور عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ متاثرہ علاقے میں آباد زیادہ تر افراد ہمسایہ ملک شام میں جاری بحران میں کے سلسلے میں صدر بشارالاسد کے حامی ہیں۔

عرب اور لبنانی میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں وسام الحسن بھی شامل ہیں جو ایک انٹیلی جنس یونٹ کے سربراہ تھے۔ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر وہ اس حملے کا ہدف تھے۔

حال ہی میں ان کی سربراہی میں بم دھماکے کے ایک منصوبے کی تحقیقات ہوئی تھیں جس کے نتیجے میں ایک شام نواز لبنانی سیاست دان گرفتار کیا گیاتھا۔

کسی نے فوری طور پر دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

جمعے کو ہونے والے دھماکے کے بارے میں ان خدشات کا اظہار کیا جارہاہے کہ یہ ہمسایہ ملک شام کی خانہ جنگی کا ردعمل ہے۔ اس سال تشدد کے کئی واقعات میں درجنوں لبنانی باشندوں کی جانیں لے چکی ہے۔اس کے علاوہ شام کی فورسز کی جانب سے لبنان کے سرحدی قصبوں پر فائرنگ تقربیاً روز مرہ کا معمول بن چکی ہے۔
XS
SM
MD
LG