رسائی کے لنکس

logo-print

خالد مشعل 45 سالہ جلاوطنی کے بعد فلسطین پہنچ گئے


غزہ پہنچنے پر اسماعیل حانیہ خالد مشعل کا استقبال کررہے ہیں

مشعل اپنے اس دورے میں ہفتے کے روز حماس تحریک کی 25 ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کریں گے۔

فلسطین کی عسکریت پسند تنظیم حماس کے ایک اہم راہنما نے 45 سالہ جلاوطنی کے خاتمے کے بعد جمعے کے روز اپنی سرزمین پر قدم رکھا۔

خالد مشعل 1967 کی چھ روزہ جنگ میں مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کے بعد وہاں سے چلے گئے تھے اور اس پورے عرصے میں وہ کبھی اپنے وطن واپس نہیں آئے۔

جمعے کے روز فلسطین پہنچنے کے بعد انہوں نے اپنی مٹی کو بوسہ دیا اور اپنے دوستوں اور حماس کے راہنماؤں سے بغل گیر ہوئے۔

عہدے داروں کا کہناہے کہ مشعل اپنے اس دورے میں ہفتے کے روز حماس تحریک کی 25 ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کریں گے۔

انہوں نے یہ دورہ اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد کیا ہے۔ یہ معاہدہ دونوں فریقوں کے درمیان آٹھ روز تک جاری رہنے والی جھڑپوں کے بعد بین الاقوامی کوششوں سے طے پایا تھا۔

فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے جنگی طیاروں کے حملوں اور گولہ باری سے 170 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوگئے تھے، جب کہ عسکریت پسندوں کے راکٹ حملوں میں چھ اسرائیلی بھی مارے گئے تھے۔

حماس نے 2006 میں فلسطین کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی تھی، لیکن بعدازاں پیدا ہونے والے تنازعوں کے بعد انہوں نے الفتح فورسز کو غزہ سے نکال دیاتھا۔

اس کے بعد سے غزہ اور مغربی کنارے کے علاقوں میں دونوں تنظیموں کی الگ الگ حکومتیں قائم ہیں ۔
XS
SM
MD
LG