رسائی کے لنکس

logo-print

سشما سوراج سعودی عرب کے دورے پر، مودی 10 فروری کو فلسطین جائیں گے


بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج، فائل فوٹو

سہیل انجم

وزیر خارجہ سشما سوراج سعودی عرب کے اپنے پہلے تین روزہ سرکاری دورے پر منگل کے روز روانہ ہوئیں۔ وہ سعودی قیادت سے ملاقات کریں گی اور باہمی دلچسپی کے دوطرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کریں گی۔ وہ سعودی عرب کی ثقافت و وراثت کے قومی تہوار میں شرکت بھی کریں گی۔

دونوں ملکوں کے مابین تاریخی اور دوستانہ تعلقات ہیں۔ اپریل 2016 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے سعودی عرب کے دورے کے بعد دونوں ملکوں کے باہمی رشتے مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

سعودی عرب بھارت کا چوتھا بڑا تجارتی شریک کار اور خام تیل کا سب سے بڑا سپلائر ہے۔ دونوں کی باہمی تجارت 25 بلین ڈالر سے زائد ہے۔ وہاں تقریباً 32 لاکھ بھارتی تارکین وطن کام کرتے ہیں جو ہر سال بڑی مقدار میں زر مبادلہ بھارت بھیجتے ہیں۔

دوسری طرف وزیر اعطم نریندر مودی 10 فروری کو فلسطین کے دورے پر جائیں گے۔ وہ رملہ میں 10 فروری کی صبح کو پہنچیں گے۔ توقع ہے کہ اس موقع پر دونوں فریقوں میں پانچ معاہدوں پر دستخط ہوں گے جو کہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور روزگار کی فراہمی میں فلسطینیوں کے لیے مددگار ثابت ہوں گے۔

وزیر اعظم مودی بھارت سے یکجہتی کا پیغام لے کر جائیں گے۔ وہ فلسطین کا دورہ کرنے والے پہلے بھارتی وزیر اعظم ہوں گے۔

بھارت اس دورے سے یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ فلسطین اور فلسطینی کاز کو کسی تیسرے ملک کی نظر سے نہیں دیکھتا۔

اسرائیل سے بھارت کی بڑھتی قربت اور دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کے ایک دوسرے ملک کے دورے سے یہ تاثر پیدا ہوا تھا کہ بھارت کی فلسطین پالیسی بدل رہی ہے۔ بھارتی حکومت اس کی ترديد کرتی ہے اور اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ فلسطینی کاز کو اس کی حمایت کمزور نہیں ہوئی ہے۔

بھارت کا یہ بھی کہنا ہے کہ فلسطین اسرائیل تنازعے کو دو ملکی فارمولے کے تحت حل کیا جانا چاہیے۔ بھارت نے صحت، سیاحت، نوجوانوں کے امور اور کھیل کے شعبوں میں فلسطین کے ساتھ اپنے اشتراک کو اور مضبوط کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

وزیر اعظم مودی فلسطین کے بعد متحدہ عرب امارات اور اومان بھی جائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG