رسائی کے لنکس

logo-print

سمندروں کی صفائی کے لیے جدید ٹیکنالوجی


ثاقب الاسلام / جارج پوٹج

دنیا میں کسی بھی ساحل یا دریا کے کنارے پر جائیں تو ایک چیز جو ضرور نظر آتی ہے وہ ہے پلاسٹک کی اشیا کا کچرا. پانی کی سطح پر تیرتے پلاسٹک کو اکٹھا کرکے نکالنا اور اسے ری سائیکل کرنا آسان ہے ۔۔ لیکن زیر آب پلاسٹک کے کچرے کا کیا کیا جائے؟

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی ایک تحقیق کے مطابق 1950 کے عشرے میں دنیا بھر میں بیس لاکھ ٹن پلاسٹک سے بنی اشیابنائی جاتیں تھیں۔ یہ مقدار سال 2015 تک بڑھ کراڑتیس کروڑ ٹن تک پہنچ چکی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر پلاسٹک کا استعمال ایسے ہی جاری رہا تو سال 2050 تک سمندروں میں پلاسٹک کا حجم ان میں پائی جانے والی مچھلیوں کے برابر ہوجائے گا۔ اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی ہے نیدرلینڈز میں تحقیق کاروں نے ، سمندروں اور دریاوں سے پلاسٹک کے کچرے کو صاف کرنے کے ایک نئے طریقے کے ذریعے۔

نیدرلینڈ زمیں تحقیق کاروں نے ،ایک ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے جو سمندروں میں تیل کے بہہ جانے کی صورت میں صفائی کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔اس ٹیکنالوجی کے ذریعے سمندر یا دریا کی تہہ میں ایک ایسا پائپ رکھا جاتا ہے جس میں چھید ہوتے ہیں۔پائیپ میں ہوا پمپ کرنے سے اس میں بلبلوں کی ایک دیوار پیدا ہوتی ہے جو مستقل انی کی سطح تک بلند ہو تی رہتی ہے ۔ ہوا کے بلبلوں کا پانی کے اوپر کی جانب بہاو پانی میں موجود پلاسٹک کےکچرے کو سطح پر لے جاتا ہے ۔، جہاں کچرے کو اکٹھا کرنا آسان ہوجاتا ہے ۔ نیدرلینڈز کے ڈیلٹئیر انٹسٹی ٹیوٹ میں ایک مصنوعی دریا میں اس کا تجربہ کیاگیا ۔ جس میں سائنسدانوں نے نتیجہ نکا لا کہ اس طریقے کی کارکردگی کا انحصار پانی کے بلبلوں کے سائز کے ساتھ ساتھ ہوا کے دباو اور پائپ کی ساخت پر بھی ہے۔

ڈیلٹیئر انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ یہ ہوا کے کم دباو اور بہت کم دباو کے درمیان مقابلہ ہے تاکہ آپ پانی کے بہاو پر اثر اندا زنہ ہوں۔ اور زیادہ ہوا کی مقدار پر بھی نظر رکھیں ۔ ہم نے تجربات کے ذریعے اس کو بہتر کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ پچھلے سال تحقیق دانوں نے تجربہ گاہ سے نکل کر دریائے آئی سیل میں 200 میٹر کی ہوائی رکاوٹ کے ساتھ اس کا تجربہ کیا جہاں انھیں دریا کے تیز بہاو کا بھی مقابلہ کرنا پڑا جبکہ دونوں تجربات میں 80 فیصد جبکہ آئی سیل دریا میں 82 سے 89 فیصد تک تجرباتی کچرا اکٹھا کرنے میں کامیابی ہوئی ۔

اس ٹیکنالوجی کی خاص بات یہ ہے کہ اس سے بحری جہازوں کی آمد رفت اور سمندری حیات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ بلکہ یہ پانی میں آکسیجن کی مقدار کو بھی بڑھانے کا باعث بنے گا جس سے سمندروں میں پائی جانے والی زہریلی نیلی ایلجی کی نشونما بھی کم ہوگی۔

XS
SM
MD
LG