'جہانگیر ترین گروپ کے پاس اپوزیشن کا ساتھ دینے کے سوا کوئی آپشن نہیں'
پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے کا اعلان کیا ہے جس کے لیے سیاسی جوڑ توڑ جاری ہے۔ اپوزیشن رہنما حکومت کی اتحادی جماعتوں سے رابطے کر رہے ہیں تو وہیں حکمران جماعت اپنے اتحادیوں کو متحد رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔
ایسے میں پاکستان تحریکِ انصاف(پی ٹی آئی) کے ناراض دھڑے جہانگیر ترین گروپ نے بھی سیاسی میدان میں متحرک کردار ادا کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بدھ کی شب لاہور میں ترین گروپ کے اہم رُکن اور ایک وقت میں عمران خان کے قریبی ساتھی سمجھے جانے والے عون چوہدری کی رہائش گاہ پر اہم اجلاس ہوا۔
مقامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ترین گروپ نے سیاسی صورتِ حال میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں اپوزیشن کی ممکنہ عدمِ اعتماد کی تحریک پر بھی غور کیا گیا۔
جہانگیر ترین گروپ میں تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والےقومی اسمبلی کے چھ جب کہ پنجاب اسمبلی کے 20 اراکین شامل ہیں۔ان میں اکثریت اُن سیاسی رہنماؤں کی ہے جنہیں جہانگیر ترین اپنی کوشش سے تحریکِ انصاف میں لائے تھے۔
شہباز شریف کی 14 سال بعد چوہدری برادران کے گھر آمد
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف نے اتوار کو لاہور میں حکومتی اتحاد میں شامل جماعت مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کی ہے۔
شہباز شریف کی چوہدری شجاعت سے اس ملاقات کو سیاسی مبصرین اہمیت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ ماضی میں حلیف رہنے والے شہباز شریف نے 14 سال بعد چوہدری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر جا کر ان سے ملاقات کی ہے۔
چوہدری شجاعت کے ہمراہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی اور شہباز شریف کے ہمراہ رانا تنویر، ایاز صادق اور سعد رفیق بھی ملاقات میں موجود تھے۔
حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کی حکومتی اتحادیوں کے ساتھ بیٹھک کا بنیادی نکتہ تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے تعاون حاصل کرنا بتایا جا رہا ہے۔
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے کا اعلان کر رکھا ہے۔
'اسٹیبلشمنٹ غیر جانب دار تو ہے مگر اشارہ نہیں ملا کہ وہ حکومت کو ہٹانا چاہتی ہے'
پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے اعلان کیا ہے کہ وہ موجودہ حکومت کے خاتمے کے لیے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائیں گے۔
پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس کے بعد جمعہ کو لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے حکومتی جماعت کے اراکینِ پارلیمنٹ اور اتحادی جماعتوں سے رابطہ کیا جائے گا۔
حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے تحریکِ عدم اعتماد لانے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت کی اتحادی جماعتیں تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں اور حکمران جماعت تحریکِ انصاف کے بعض اراکین بھی ڈھکے چھپے الفاظ میں گلے شکوے کرتے رہتے ہیں۔
وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے تحریکِ عدم اعتماد پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ حزب اختلاف کل تحریک لے آئے، پاکستان تحریک انصاف اور اپوزیشن کے اراکین اسمبلی انہیں سرپرائز دیں گے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ حزب اختلاف کی جانب سے تحریکِ عدم اعتماد لانے کا اعلان ایک اہم اقدام ہے تاہم اس کی کامیابی کے لیے حکومتی اتحادیوں اور تحریکِ انصاف کے ناراض اراکین کی حمایت حاصل کرنا ہو گی۔ البتہ بعض ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اپوزیشن عدم اعتماد میں کامیاب ہو بھی جاتی ہے تو سوال یہ ہے کہ اس کے بعد حکومت کون بنائے گا؟
دوسری جانب حزب اختلاف کی حکومت مخالف تحریک کو دیکھتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف نے عوام کو اپنی کارکردگی سے آگاہ کرنے کے لیے عوامی رابطہ مہم اور جلسوں کا اعلان کر رکھا ہے جن سے وزیر اعظم عمران خان خطاب کریں گے۔
عبوری حکومت یا نئے انتخابات؛ آخر اپوزیشن جماعتیں چاہتی کیا ہیں؟
پاکستان کی اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے سرگرم ہیں۔ ایک جانب سابق صدر آصف علی زرداری نے لاہور میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں تو وہیں لندن میں مقیم سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے عمران خان حکومت کی جلد سے جلد رُخصتی کے لیے تمام آئینی راستے اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سابق صدر آصف علی زرداری نے پیر کو حکومت کی اہم اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کی تھی جب کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے بھی تمام آپشنز کھلے رکھنے کا عندیہ دے رکھا ہے اور اس کے مرکزی رہنماؤں نے منگل کو مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے ملاقات کی ہے۔
اس سے قبل سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ہفتے کو مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے ملاقات کر کے حکومت کے خلاف ایک بار پھر مل کر چلنے پر اتفاق کیا تھا۔
مبصرین موجودہ سیاسی حالات میں حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں اور اپوزیشن پارٹیوں کی ان ملاقاتوں کو اہم قرار دے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ ساڑھے تین برس پر نظر دوڑائی جائے تو حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے پلیٹ فارم کے علاوہ کئی قومی معاملات پر اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اعتماد کا فقدان نظر آیا تھا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اپوزیشن جماعتیں چاہتی کیا ہیں؟ کیا وہ تحریکِ عدم اعتماد لا کر عبوری حکومت قائم کرنا چاہتی ہیں؟ یا نئے انتخابات اپوزیشن جماعتوں کی خواہش ہے؟ سیاسی افق پر اس سوال کا جواب بھی تلاش کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے کہ اہم قومی معاملات پر اپوزیشن کے بڑے کھلاڑی نواز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن کہاں کھڑے ہیں؟