تحریکِ عدم اعتماد: حکومت کیا کر سکتی ہے؟
پاکستان میں ان دنوں سیاسی گرما گرمی عروج پر ہے۔ ایک طرف اپوزیشن اور حکومتی رہنماؤں کی جانب سے تند و تیز بیانات کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری جانب تحریکِ عدم اعتماد کے معاملے پر فریقین بازی لے جانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ تجزیہ کار اس ماحول کو کیسے دیکھ رہے ہیں اور حکومت کے پاس کیا آپشنز ہیں؟ بتا رہی ہیں گیتی آرا انیس۔
وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد، لیکن پنجاب میں بھی سیاسی ہلچل کیوں؟
پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے قومی اسمبلی میں وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جمع کرا دی ہے جس کے بعد ملک میں سیاسی درجۂ حرارت بڑھ گیا ہے۔ تاہم تحریکِ عدم اعتماد کی گونج پنجاب میں بھی سنائی دے رہی ہے جہاں بعض تجزیہ کاروں کے بقول وزیرِ اعلٰی سردار عثمان بزدار کو بھی اپنی بقا کا چیلنج درپیش ہے۔
حکمراں جماعت تحریک انصاف کے منحرف دھڑے ترین گروپ نے عثمان بزدار کو فارغ کرنے کا مطالبہ کر رکھا ہے تو وہیں وزیرِ اعظم عمران خان سردار عثمان بزدار کو کام جاری رکھنے کی ہدایت کر چکے ہیں۔
ایسے میں پنجاب کی سیاست بھی اہم موڑ پر آ گئی ہے اور لاہور شہر بھی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایک جانب جہاں ترین گروپ نے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی سے ملاقات کی ہے تو وہیں قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف شہباز شریف نے منصورہ لاہور میں امیر جماعتِ اسلامی سراج الحق سے ملاقات کی ہے۔
کیا پنجاب میں بھی مرکز کی طرح کوئی سیاسی تبدیلی آنے کے امکانات ہیں؟ وزیرِ اعظم کب تک عثمان بزدار کا دفاع کرتے رہیں گے؟ مسلم لیگ (ن) پنجاب کی سب سے بڑی جماعت ہونے کے ناطے آگے کیا کرنے جا رہی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو پنجاب کی سیاسی راہداریوں میں گردش کر رہے ہیں۔
کپتان جانتا ہے آگے کھیل کیا ہوگا: عمران خان
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنے خلاف آنے والی تحریکِ عدم اعتماد پر کھل کر اظہار خیال کرتے ہوئے اسے اپوزیشن جماعتوں کی سیاسی موت قرار دیا ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نے وہی کیا جس کی وہ دعا مانگ رہے تھے، کپتان کو پتا ہے کہ آگے کھیل کیسا ہو گا۔
اپنے ایک روزہ دورۂ کراچی کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں سے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ عدم اعتماد کی تحریک میں پھنس گئے ہیں۔ اب ان کے پیچھے جائیں گے اور ان کو نہیں چھوڑیں گے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ کھیل میں کپتان کی کامیابی کا راز یہ ہوتا ہے کہ وہ جانتا ہے کہ آئندہ کا کھیل کیسے ہوگا۔ اپوزیشن کی جماعتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ 25 سال سے ان لوگوں کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ ساڑھے تین سال سے ملک کو سنبھال رہے تھے اور اس کو دیوالیہ ہونے سے بچا رہے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حزبِ اختلاف کی تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہو گی۔ان کے مطابق وہ گلگت اور پنجاب میں مزید جلسے کریں گے اور عوام کو حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کا اصل چہرہ دکھائیں گے۔
تحریک عدم اعتماد کے آئینی تقاضے کیا ہیں؟
پاکستان کی سیاست میں اس وقت تحریک عدم اعتماد کا شور بہت سنائی دے رہا ہے۔جو منگل کے روز قومی اسمبلی میں جمع بھی کرا دی گئی ہے۔ جس کے ذریعےمتحدہ حزب اختلاف وزیر اعظم عمران خان کو ان کے عہدے سے ہٹانا چاہتی ہے۔ جبکہ حکومت اپنا دفاع کر رہی ہے۔
جب بات تحریک عدم اعتماد کی ہوتی ہے تو اس حوالے سے چند باتیں یا اصطلاحات بڑے تواتر سے استعمال ہوتی ہیں، مثلاً نمبر گیم، فلور کراسنگ، اوپن بیلٹ اور سیکرٹ بیلٹ، اور آئینی تقاضے وغیرہ۔ آج ہم اسی بارے میں گفتگو کریں گے کہ تحریک عدم اعتماد کیا ہے۔ اس کے لیے آئینی تقاضے کیا ہیں اور ان اصطلاحات کا مطلب کیا ہے جو اس سلسلے میں استعمال کی جاتی ہیں۔
پارلیمانی جمہوریتوں میں، جیسی پاکستان، بھارت یا برطانیہ وغیرہ میں ہے۔ جہاں پارٹی کی بنیاد پر انتخابات ہوتے ہیں۔ اور جو پارٹی ایوان زیریں میں جسے پاکستان میں قومی اسمبلی کہا جاتا ہے، ارکان کی اکثریت حاصل کرلے، وہ اپنا پارلیمانی لیڈر منتخب کرتی ہے۔ جو وزیر اعظم کہلاتا یا کہلاتی ہے۔ اس کے مقابلے میں وہ پارٹی یا پارٹیاں جن کے ارکان کی مجموعی تعداد کم ہوتی ہے، حزب اختلاف کہلاتی ہیں۔ وہ بھی اپنا ایک پارلیمانی لیڈر منتخب کرتی ہیں جو قائد حزب ا اختلاف کہلاتا یا کہلاتی ہے۔
اگر حزب اختلاف حکومت کی کار کردگی سے مطمئن نہ ہو اور حکومت گرانا چاہے تو اس کا آئینی طریقہ یہ ہے کہ وہ حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائے۔ ان دنوں پاکستان میں یہی ہو رہا ہے کہ حزب اختلاف کی پارٹیاں متحد ہوکر حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور کرانےکی کوشش کررہی ہیں جس کے لیے آئین میں باقاعدہ ایک طریقہ کار درج ہے۔ جس کے مطابق وزیر اعظم کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے قومی اسمبلی کے ارکان کی مجموعی تعداد کی سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔ اور یہاں پر نمبرز گیم کی اصطلاح سامنے آ تی ہے۔ یعنی فریقین یہ دعوی کرتے ہیں کہ ان کے پاس ارکان کی مطلوبہ تعداد موجود ہے۔