اسلام آباد میں ممکنہ تصادم روکنے کے لیے درخواست سماعت کے لیے مقرر
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریکِ عدم اعتماد اور سیاسی جماعتوں کے جلسوں اور لانگ مارچ کے پیشِ نظر اسلام آباد میں ممکنہ تصادم روکنے کے لیے دائر درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی۔
چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد اور اٹارنی جنرل آف پاکستان کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
جمعے کو تحریکِ انصاف کے ناراض کارکنوں نے سندھ ہاؤس پر دھاوا بول دیا تھا، جہاں حکمراں جماعت کے منحرف اراکین مقیم ہیں۔
مشتعل کارکنوں نے سندھ ہاؤس کا دروازہ توڑ دیا تھا اور ہنگامہ آرائی کی تھی جس پر پولیس نے تحریکِ انصاف کے دو اراکینِ قومی اسمبلی سمیت درجنوں کارکنوں کو گرفتار کر لیا تھا۔
علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) نے 23 مارچ کے بعد اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ جب کہ حکمراں جماعت نے 27 مارچ کو ڈی چوک پر جلسے کا اعلان کر رکھا ہے۔
حکومت کا ترین گروپ سے رابطہ
وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے لیے حکومت بھی سرگرم ہے۔
اتحادیوں کو منانے کے ساتھ ساتھ پارٹی کے ناراض رہنماؤں کو منانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
مقامی ذراع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیرِ دفاع پرویز خٹک نے جہانگیر ترین گروپ کے اہم رہنما عون چوہدری سے رابطہ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق پرویز خٹک نے ترین گروپ سے درخواست کی ہے کہ وہ تحریکِ عدم اعتماد کے دوران کوئی انتہائی قدم نہ اُٹھائیں۔
عون چوہدری نے پرویز خٹک سے رابطے کی تصدیق کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ اہم فیصلے روک لیں جلد آپ کو پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔
عدمِ اعتماد کی پہلی تحریک ہے جس میں نہ کوئی ووٹ خرید رہا ہے اور نہ کوئی بیچ رہا ہے: چوہدری شجاعت
مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ یہ عدمِ اعتماد کی پہلی تحریک ہے جس میں نہ تو کوئی ووٹ خرید رہا ہے اور نہ ہی کوئی بیچ رہا ہے۔
لاہور سے جاری کیے گئے ایک بیان میں چوہدری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ آج کل ٹی وی اور اخباروں میں آ رہا ہے کہ نوٹوں کی بوریاں کھل گئی ہیں۔ حتیٰ کہ وزیرِاعظم نے بھی سندھ ہاؤس میں نوٹوں کی بوریاں کھلنے کا ذکر کیا ہے۔
اُن کے بقول حکومت تو ہمیشہ جلسے جلوس روکنے کی کوشش کرتی ہے، یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن ایک ہی ایشو پر جلسہ کر رہے ہیں۔
چودھری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ ایک بار پھر اپیل ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنے جلسے جلوسوں کا پروگرام ملتوی کر دیں۔ ان جلسے جلوسوں میں اگر کوئی مر گیا یا مروا دیا گیا تو سب پچھتائیں گے۔
تحریکِ انصاف کے کارکنوں کا سندھ ہاؤس پر دھاوا، اسلام آباد میں کیا ہو رہا ہے؟
اسلام آباد میں تحریکِ انصاف کے کارکنوں نے سندھ ہاؤس کے باہر احتجاج کرتے ہوئے عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی ہے۔ سندھ ہاؤس میں اپوزیشن اور حکمران جماعت کے منحرف اراکینِ اسمبلی موجود ہیں۔ اسلام آباد پولیس کی ایک بڑی تعداد بھی موقع پر موجود ہے اور صورتِ حال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سندھ ہاؤس کے باہر کیا ہو رہا ہے؟ جانیے سارہ حسن سے اس فیس بک لائیو میں۔