اسلام آباد میں جلسے رکوانے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست پر سماعت
اسلام آباد میں 27 مارچ کو سیاسی جماعتوں کے جلسے رکوانے کے لیے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال بار ایسوسی ایشن کی درخواست پر سماعت کر رہے ہیں۔ کمرۂ عدالت میں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن موجود ہیں۔
اسپیکر کا اجلاس نہ بلانا قابلِ مذمت اور غیر آئینی ہے: مسلم لیگ (ن)
حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ وزیرِ اعظم پر عدم اعتماد کی تحریک کے لیے ریکوزیشن جمع ہونے کے بعد 14 دن گزر چکے ہیں، اسپیکر قومی اسمبلی کا اجلاس نہ بلانا آئین سے انحراف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ آئین کی واحد تشریح کے باوجود اسپیکر کا 14 دن میں اجلاس نہ بلانا قابل مذمت، افسوس ناک اور سرا سر غیر آئینی ہے۔
منحرف ارکان کو سزا دینا اسی طرح اہم ہے جیسے ملک کے غداروں کو دی جاتی ہے: فواد چوہدری
وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ "آرٹیکل 63 اے کے تحت ریفرنس سپریم کورٹ کو یہ موقع دے رہا ہے کہ ملک میں جاری ہارس ٹریڈنگ، موقع پرستی اور کرپشن کے ڈرامے ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکیں۔"
انہوں نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ تحریک انصاف سے منحرف ارکان نے اپنی جماعت نہیں ملک کی پیٹھ میں خنجر گھونپا۔ انہیں سزا دینا اسی طرح اہم ہے جیسے ملک کے غداروں کو دی جاتی ہے۔
اسپیکر نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے: سینیٹر شیریں رحمٰن
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیریں رحمٰن نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیل 54 کے مطابق تحریک عدمِ اعتماد کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کو ہونا چاہیے تھا جسے 25 مارچ کو بلا کر اسپیکر نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔
شیریں رحمن نے ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آئین میں اس بات کی گنجائش نہیں کہ پارلیمنٹ کی عمارت 'تزئین و آرائش' کے باعث اسمبلی اجلاس تاخیر سے بلایا جائے اور اس سلسلے میں اسپیکر کی وضاحت ناقابلِ قبول ہے۔