سپریم کورٹ بار کا صدارتی ریفرنس پر تحریری جواب داخل
سپریم کورٹ بار کونسل نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر تحریری جواب جمع کرا دیا ہے۔
بار نے اپنے جواب میں عدم اعتماد کی تحریک میں رکنِ اسمبلی کے ووٹ کے حق کو انفرادی قرار دیا ہے۔
سپریم کورٹ بار کے مطابق آرٹیکل 95 کے تحت ووٹ ڈالنا رکن قومی اسمبلی کا انفرادی حق ہے اور ووٹ کسی سیاسی جماعت کا حق نہیں۔
تحریری جواب کے مطابق کسی رکن قومی اسمبلی کو ووٹ ڈالنے سے روکا نہیں جاسکتا۔
’حکومت کی اکثریت ختم ہو چکی ہے‘
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ عمران خان کی حکومت کی اکثریت ختم ہو چکی ہے۔
ملاکنڈ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان جلسہ کرنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ پہلے وہ قومی اسمبلی میں 172 افراد کا جلسہ کریں۔
وزیرِ اعظم پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آپ ہمیں اردو سکھانے سے قبل اپنے بچوں کو اردو سکھائیں۔
انہوں نے کہا کہ قوم چاہتی ہے کہ وزیرِ اعظم مہنگائی پر توجہ دیں۔ تین سال جھوٹ بولنے کے بعد وہ کہتے ہیں کہ ان کو مہنگائی کی پرواہ نہیں ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان جس زبان سے مدینہ کی ریاست بنانے کی بات کرتے ہیں اسی زبان سے گالی بھی دیتے ہیں۔ مدینہ کی ریاست اخلاقیات کی ریاست تھی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سی پیک منصوبہ سست روی کا شکار ہو چکا ہے۔
تحریکِ عدم اعتماد کا میچ بھی میں ہی جیتوں گا: عمران خان
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تحریکِ عدم اعتماد سے ایک روز قبل وہ سرپرائز دیں گے۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق بدھ کو سپریم کورٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ابھی تو لڑائی شروع ہوئی ہے، وہ ہار ماننے والے نہیں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ اُن کی چوہدری نثار علی خان سے ملاقات ہوئی ہے، اُن کا چوہدری نثار سے 50 سال پرانا تعلق ہے۔
نیوٹرل سے متعلق اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران نے کہا کہ نیوٹرل وہ ہوتا ہے جو اچھائی کی ترغیب دے اور برائی سے روکے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ سیاست کے لیے فوج کو بدنام نہیں کیا جانا چاہیے، فوج نہ ہوتی تو ملک تین ٹکڑے ہو جاتا۔
صدارتی ریفرنس کی سماعت کے لیے بنائے گئے بینچ پر جسٹس فائز عیسٰی معترض
سپریم کورٹ کے جج جسٹس فائز عیسٰی نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرنس پر بنائے گئے بینچ پر اعتراضات اُٹھا دیے ہیں۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے نام لکھے گئے خط میں جسٹس فائز عیسیٰ کا مزید کہنا تھا کہ بینچ میں سپریم کورٹ کے سینئر ججز کو شامل نہ کرنے کی روایت سے انحراف ہوا۔
جسٹس فائز عیسیٰ نے سوال اُٹھایا کہ اس ریفرنس پر سماعت کے لیے بینچ پہلے ہی تشکیل کیوں دے دیا گیا جو اس وقت تک دائر ہی نہیں ہوا تھا۔
اُن کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی پٹیشن اور ریفرنس کو یکجا نہیں کیا جا سکتا۔ صرف انصاف نہیں بلکہ انصاف ہوتا نظر بھی آنا چاہیے۔
سپریم کورت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے صدارتی ریفرنس پر سماعت کے لیے پانچ رُکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔ بینچ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہیں۔