اسپیکر نے زیادتی کی: شہباز شریف
قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ پوری قوم کی نظریں قومی اسمبلی پر لگی ہوئی ہیں اور آج ہونے والے اجلاس میں اسپیکر اسد قیصر نے زیادتی کی ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ اسپیکر نے پی ٹی آئی کارکن کی طرح پارلیمنٹ کو روند دیا اور تحریک عدم اعتماد پیش کرنے نہیں دی گئی۔
اپوزیشن لیڈر کا مزید کہنا تھا کہ اگر پیر کو یہ دھاندلی کے مرتکب ہوتے ہیں تو دما دم مست قلندر ہو گا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی میں کیا ہوا؟
قومی اسمبلی کے جمعے ہونے والے اجلاس کی کارروائی 18 منٹ تک جاری رہی جس کی تفصیلات بتا رہے ہیں علی فرقان اس فیس بک لائیو میں۔
قومی اسمبلی کا اجلاس پیر تک ملتوی
اسپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی کا اجلاس پیر تک ملتوی کر دیا ہے۔ اجلاس کے ایجنڈے میں وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی تحریکِ عدم اعتماد کی قرارداد بھی شامل تھی۔
اجلاس کی کارروائی کے شروع میں تحریک انصاف کے متوفی رکن زمان خان کے لیے فاتحہ خوانی ہوئی۔
بعدازاں اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ "قومی اسمبلی کی روایات کے مطابق رکن اسمبلی کی وفات پر ایوان کی کارروائی ملتوی کرتا ہوں۔ اب تک 34 مرتبہ قومی اسمبلی کا اجلاس کسی رکن پارلیمنٹ کی وفات کے باعث بغیر کارروائی ملتوی کیا گیا ہے۔"
اسد قیصر نے کہا کہ تحریکِ عدم اعتماد پر آئین اور اسمبلی قواعد کے مطابق کارروائی کروں گا۔
جب مشکلات میں گھرے کپتان نے ڈٹ کر مقابلہ کیا
''وی اسٹل ہیو چانسز ان دی کپ''(ہم اب بھی ورلڈ کپ جیت سکتے ہیں)، یہ وہ تاریخی الفاظ تھے جو سن 1992 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والی پاکستان ٹیم کے کپتان عمران خان نے آسٹریلیا کے خلاف اہم ترین میچ سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں ادا کیے تھے۔
عمران خان کے اس بیان کے بعد ایونٹ میں گرین شرٹس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور باقی رہ جانے والے گروپ میچز جیت کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کیا ۔ جس کے بعد ناقابلِ شکست نیوزی لینڈ کو لاسٹ فور یعنی سیمی فائنل میں شکست دے کر ایونٹ سے باہر کیا اور 25 مارچ کو انگلینڈ کو 22 رنز سے ہرا کر ٹرافی اپنے نام کی۔
گرین شرٹس کی اس تاریخی فتح کو آج بروز جمعہ تیس برس مکمل ہو گئے ہیں۔اگرچہ عمران خان پاکستان ٹیم کے کپتان تو نہیں لیکن وہ ملک کے وزیراعظم ہیں مگر انہیں اپنی وزارتِ عظمیٰ برقرار رکھنے کے لیے تیس برس قبل کی طرح ہی کچھ مشکل صورتِ حال کا سامنا ہے۔
اس وقت انہیں تحریک عدم اعتماد کا سامنا ہے اور ان کے اپنے کئی ساتھی ان سے ناراض ہو کر خلاف ہو گئے ہیں جب کہ اتحادی بھی اپوزیشن کے ساتھ مل بیٹھے ہیں۔ تیس برس قبل کرکٹ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک رسائی کے لیے بھی عمران خان کو بحیثیت کپتان کئی مشکلات کا سامنا تھا جن میں کئی اہم کھلاڑیوں سے محروم ہونا بھی شامل تھا۔