وزیرِ اعظم کو خطرہ تھا تو قومی سلامتی کی کمیٹی کے سامنے معاملہ کیوں نہیں لائے: شیریں رحمٰن
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیریں رحمٰن نے کہا ہے کہ اگر عمران خان کو حکومت سے متعلق کوئی خطرہ تھا تو وہ یہ معاملہ پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کی کمیٹی کے سامنے کیوں نہیں لے کر آئے۔
شیریں رحمٰن نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ خطرات کے معاملات اٹھانے کے کئی راستے ہیں اور جلسہ ان میں سے نہیں ہے۔
شاہ زین بگٹی کی اپوزیشن کے اجلاس میں انٹری
جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ شاہ زین بگٹی بھی اپوزیشن جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پہنچ گئے۔
اپوزیشن ارکان اور قیادت نے کھڑے ہو کر اور تالیاں بجا کر شاہ زین بگٹی کا استقبال کیا۔
شاہ زین بگٹی نے اتوار کو چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کے بعد حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل متحدہ اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس
قومی اسمبلی کا اجلاس اب سے کچھ دیر بعد شروع ہو گا جس میں وزیرِ اعظم پر عدم اعتمادِ کی تحریک اجلاس کے ایجنڈے پر سرِ فہرست ہے۔
اسمبلی اجلاس سے قبل متحدہ اپوزیشن جماعتوں نے اپنے اجلاس کے دوران حکمتِ عملی طے کی۔
آرٹیکل 63 اے پر پارلیمنٹ اپنا کام کر چکی، اب عدالت نے تشریح کرنی ہے: اٹارنی جنرل
سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق سماعت کے دوران جسٹس جمال خان نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا تمام جماعتیں آرٹیکل 63 اے پر تاحیات نااہلی چاہتی ہیں؟ اس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ صدارتی ریفرنس سے قبل کوئی ریفرنڈم نہیں کرایا گیا۔
اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اپنے پرائے تو سب ہی تاحیات نااہلی چاہتے ہیں جس پر جسٹس جمال خان نے کہا کہ نااہلی کی مدت کا پارلیمنٹ کو فیصلہ کرنے دیں۔ اٹارنی جنرل نے دلائل کے دوران کہا کہ پارلیمنٹ اپنا کام کر چکی ہے اب عدالت نے تشریح کرنی ہے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ عدم اعتماد کامیاب ہو تو منحرف ارکان اور وزیرِ اعظم دونوں گھر جائیں گیے۔ اگر حکومتی جماعت کے اراکین مستعفی ہو جائیں تو بھی اکثریت ختم ہو جائے گی۔ ایسی صورت میں وزیرِ اعظم کو اعتماد کا ووٹ لینا ہو گا۔
اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ عوام اپنی رائے کا اظہار صرف ووٹ سے کر سکتے ہیں اور عدالت عوام کو مدنظر رکھتے ہوئے تشریح کرے۔
عدالت نے صدارتی ریفرنس پر سماعت منگل تک ملتوی کر دی ہے۔