رسائی کے لنکس

Shehbaz Sharif
Shehbaz Sharif

کسی کو ڈکٹیشن دینے کی ضرورت نہیں، الیکشن کب ہوں گے یہ فیصلہ پارلیمنٹ کو کرنا ہے: شہباز شریف

18:58 29.3.2022

مسلم لیگ (ن) کا وزیرِ اعظم کو ملنے والا 'دھمکی آمیز' خط پارلیمنٹ میں لانے کا مطالبہ

سابق وزیرِ اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اگر دھمکی آمیز خط سے متعلق وزیرِ اعظم سچ بول رہے ہیں تو اس خط کو پارلیمنٹ میں لائیں۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اگر کسی نے ہمارے ملک کو دھمکی دی ہے تو سب نے مل کر اس کا جواب دینا ہے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اگر وہ خط سپریم کورٹ کے جج کو بھی دکھایا جا سکتا ہے تو 23 کروڑ پاکستانیوں کی نمائندہ پارلیمنٹ کو یہ خط کیوں نہیں دکھایا جا سکتا۔

اُن کا کہنا تھا کہ جس ملک کی جانب سے بھی یہ دھمکی آمیز خط لکھا گیا ہے اس ملک کے سفیر کو فوری طور پر بے دخل کیا جائے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ وفاقی وزرا نے اس شخص پر الزام لگایا ہے جس نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا۔

خیال رہے کہ وفاقی وزرا نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا تھا کہ وزیرِ اعظم عمران خان کو دھمکی آمیز خط میں اہم کردار سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کا بھی ہے۔


16:29 29.3.2022

تحریکِ عدم اعتماد پر نمبرز گیم کیا ہے؟

قومی اسمبلی میں تحریکِ عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد سیاسی ملاقاتوں کے سلسلے میں تیزی آ گئی ہے جہاں حکومت اپنی برتری ظاہر کرنے کے لیے سر توڑ کوشش کر رہی ہے تو وہیں اپوزیشن بھی حکومت کے اتحادیوں کو ساتھ ملانے میں مصروف ہیں۔

پنجاب اسمبلی میں پیر کو وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش ہوئی تو انہوں نے وزیرِ اعظم عمران خان استعفیٰ پیش کر دیا۔ اُس کے بعد مسلم لیگ (ق) کے رہنما پرویز الہی کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کی پیشکش نے ملک کے سیاسی منظر نامے میں بہت کچھ تبدیل کر دیا ہے۔

اب تک تحریک انصاف کی اتحادی حکومت میں شامل بلوچستان عوامی پارٹی کے چار ارکانِ قومی اسمبلی نے اپوزیشن میں شمولیت کا اعلان کیا ہے جب کہ جمہوری وطن پارٹی کے شاہ زین بگٹی پہلے ہی اپوزیشن کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں۔

قومی اسمبلی میں پانچ سیٹیں رکھنے والی مسلم لیگ (ق)، جو اپوزیشن کے بہت قریب تھی اب دور ہو چکی ہے۔ پرویز الٰہی کا وزیر اعلیٰ کا عہدہ قبول کرنے کے بعد پارٹی میں اندرونی اختلاف کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔

مسلم لیگ (ق) کے رکنِ قومی اسمبلی طارق بشیر چیمہ نے کابینہ سے مستعفیٰ ہوتے ہوئے تحریکِ عدم اعتماد میں وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف ووٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔

تحریکِ عدم اعتماد میں کون کامیاب ہوتا ہے اس کا بہت حد تک دار و مدار ناراض حکومتی اراکین اور متحدہ قومی موومنٹ پر ہے۔

ایم کیو ایم کی قومی اسمبلی میں سات نشتیں ہیں اور اس نے حکومت اور اپوزیشن کے سامنے مطالبات رکھے ہیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایم کیو ایم کے تین مطالبات میں لاپتا کارکنوں کی بازیابی، جھوٹے مقدمات کا خاتمہ اور بند دفاتر کھولنے کی اجازت شامل ہے۔

قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لیے متحدہ اپوزیشن کم سے کم 172 اراکین کی حمایت حاصل کرنی ہے۔

تحریکِ عدم اعتماد پیش ہونے سے قبل قومی اسمبلی میں پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت میں حکومتی اراکین کی مجموعی تعداد 179 تھی جب کہ متحدہ اپوزیشن کے 163 ارکان تھے۔

بعض اراکین اور جماعتوں کی حمایت کے اعلان کے بعد حزبِ اختلاف کی پوزیشن بہتر ہو گئی ہے۔

سات اراکین کی شمولیت کے بعد اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ ان کے ارکان کی تعداد 169 ہو گئی ہے۔حکومتی اتحاد کے نمبر اب 179 سے کم ہو کر 172 ہو گئے ہیں۔

اس صورتِ حال میں ایم کیو ایم کے سات اراکین اور تحریکِ انصاف کے منحرف اراکین کا ووٹ فیصلہ کن کردار ادا سکتا ہے۔

16:23 29.3.2022

رات کو 12 بجے (ق) لیگ والے مجھے مبارک دینے آئے اور صبح حکومت سے مل گئے: آصف زرداری

سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اُن کے مسلم لیگ (ق) کے ساتھ معاملات طے پا گئے تھے۔ وہ رات کو 12 بجے مجھے مبارک باد دینے آئے، لیکن نجانے کیا ہوا کہ وہ صبح حکومت سے مل گئے۔

اسلام آباد میں اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ سیاسی لوگوں سے رابطہ رہتا ہے اور (ق) لیگ سے بھی ہمارے رابطے تھے۔

اُن کے بقول اب یہ (ق) لیگ والے ہی بہتر بتا سکتے ہیں کہ ہمارے ساتھ معاملات طے کرنے کے بعد وہ حکومت کے ساتھ کیوں گئے۔

آصف زرداری کا کہنا تھا کہ پنجاب میں نمبر گیم اپوزیشن کے پاس ہے اور ہم مل کر پنجاب میں وزیرِ اعلٰی نامزد کریں گے اور وہی کامیاب ہو گا۔

سابق صدر نے دعویٰ کیا کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) سے متعلق بھی اچھی خبر ملی گی۔

16:13 29.3.2022

بلوچستان سے رُکن قومی اسمبلی اسلم بھوتانی کا بھی اپوزیشن کا ساتھ دینے کا اعلان

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے آزاد رُکن قومی اسمبلی اسلم بھوتانی نے تحریکِ عدم اعتماد میں اپوزیشن جماعتوں کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

اسلام آباد میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے اسلم بھوتانی کا کہنا تھا کہ نواب اختر مینگل، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور آصف علی زرداری جہاں کہیں گے وہاں جاؤں گا۔

نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی تحریکِ عدم اعتماد کامیابی کی جانب گامزن ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ وہ اُمید کرتے ہیں کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) بھی اپوزیشن کا ساتھ دے گی۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ عمران خان اب اکثریت کھو چکے ہیں، لہذٰا اُنہیں فوری مستعفی ہو جانا چاہیے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG