دھمکی آمیز مراسلے سے متعلق الزامات میں کوئی صداقت نہیں: امریکہ
امریکہ کے محکمۂ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ پاکستان کو دھمکی آمیز مراسلے سے متعلق الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
واشنگٹن ڈی سی میں نیوز بریفنگ کے دوران جب ان سے سوال کیا کہ پاکستان کی جانب سے دھمکی آمیز مراسلے سے متعلق امریکہ کا نام لیا جا رہا ہے تو اس پر انہوں نے کہا کہ "ہم پاکستان میں ہونے والی پیش رفت کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ ہم پاکستان کے آئینی عمل اور قانون کی حکمرانی کا احترام اور حمایت کرتے ہیں، لیکن ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔"
’عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا جائے‘
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کا کہنا ہے کہ ناانصافیوں اور محرومیوں کے سبب بلوچ عوام پاکستان سے دور ہو رہے ہیں۔ لیکن اگر سیاسی جماعتیں بلوچستان کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہیں تو وہاں سیاسی معاملات میں اداروں کی مداخلت ختم کریں، عسکری آپریشن بند کیا جائے اور عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا جائے۔
اختر مینگل کے بقول ان کی جماعت متحدہ اپوزیشن کی حمایت تو کر رہی ہے لیکن بلوچستان کے مسائل کے حل کے بارے میں وہ زیادہ پرامید نہیں ہیں۔
عمران خان نے پاکستان کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی: بلاول بھٹو زرداری
بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ تین سال کے عرصے میں عمران خان نے پاکستان کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ معیشت، جمہوریت، خارجہ پالیسی ہر ایک پر وہ حملہ آور ہو رہے ہیں۔
نجی ٹیلی ویژن چینل ’جیو نیوز‘ پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تبدیلی کے نام پر پاکستان کے عوام پر بوجھ ڈال دیا گیا اور اب جب شکست سامنے نظر آ رہی ہے تو الزام تراشی نامناسب ہے۔
تحریکِ عدم اعتماد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ اگر محفوظ راستہ چاہیے تو استعفیٰ دیں اور خاموشی سے گھر چلے جائیں۔
وزیرِ اعظم پر تنقید کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمران خان نے چند دن قبل بڑے جلسے کی کوشش کی۔ اب وہ ایک لاکھ لوگوں کو پارلیمان کے باہر لانے کی بات کر رہے ہیں۔
انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ لاکھوں لوگوں کو اکٹھا کرنے کے بجائے صرف 172 ارکانِ قومی اسمبلی کا بندوبست کریں۔
’اندرونی معاملات کے لیے کسی ملک سے تعلقات خراب نہیں کرنے چاہئیں‘
مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کو تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے چاہیئں۔ اندرونی معاملات کے لیے کسی ملک سے تعلقات خراب نہیں کرنے چاہئیں۔
اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) رہنماؤں احسن اقبال اور شاہد خاقان عباسی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے معاشی حالات انتہائی مخدوش ہیں۔ اس کے معاشی استحکام میں امریکہ کی معاونت حاصل رہی ہے۔
وزیرِ اعظم کے خطاب کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان عوام کی توجہ دوسرے معاملات پر مبذول کر رہے ہیں۔ پاکستان میں پہلے ہی بہت تفریق ہے۔ عمران خان مذہب کو سیاست میں نہ گھسیٹیں۔ عمران خان کو سیاست نہیں آئی اور اب عالمِ دین بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے وزیرِ اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان تو کہتے تھے کہ تمہیں رلاؤں گا، اب خود رونا شروع کر دیا ہے۔
تحریکِ عدم اعتماد کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس میں کسی ملک کی سازش شامل نہیں ہے۔ تحریک انصاف نے چار سال میں ملک کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔