سائنس یا خدا؟ ویب ٹیلی سکوپ کی دریافتوں کے بعد پراناموضوع پھر زیربحث
سائنس یا خدا؟ ویب ٹیلی سکوپ کی دریافتوں کے بعد پراناموضوع پھر زیربحث
ناسا کے مطابق ویب ٹیلی اسکوپ نے کہکشاؤں کی جو تصاویر بھجوائیں، اس سے قبل کبھی نہیں دیکھی گئی تھیں (فائل فوٹو)
ویب ڈیسک۔ اس ماہ کے شروع میں جب ناسا کی سب سے بڑی اور طاقتور خلائی دوربین ’ ویب ٹیلی اسکوپ‘ کے ذریعے لی جانے والی تصاویر کو جاری کیا گیا تو امریکی سینیٹر مارکو روبیو نے ٹوئٹر پر ان میں سے ایک تصویر کو بائبل کی ایک آیت کے ساتھ شیئر کیا، "آسمان خدا کی عظمت کی گوائی دیتے ہیں" ۔
ویب ٹیلی اسکوپ زمین سے تقریباً 20 لاکھ کلومیٹر دور سورج کے گرد چکر لگا رہی ہے۔ یہ اسٹیشن انتہائی حساس انفراریڈ کیمروں کا استعمال کرتے ہوئے کائنات کی پہلی کہکشاوں کو تلاش کرنے کے مشن پر ہے۔ عوام کے لیے جاری کی گئی ابتدائی تصاویر نے آسمان کو روشن کرنے والی قدیم کہکشاؤں کی پہلی جھلک فراہم کی۔
سینیٹر روبیو کی پوسٹ پر تبصروں میں کہا گیا " آپ اسے صرف سائنس کی وجہ سے دیکھ سکتے ہیں" اور، "کاش آپ سائنسی طور پر اتنے پڑھے لکھے ہوتے کہ ان تمام طریقوں کو سمجھ سکتے جن سے یہ تصویر آپ کے افسانوں کو غلط ثابت کرتی ہے۔"
شکوک و شبہات کے اظہار والے تبصرے طویل عرصے سے جاری بحث کی کڑی ہیں کہ آیا سائنس اور مذہب کا ملاپ ہو سکتا ہے؟
جیری اے کوئن ، حیاتیاتی ارتقا کے أمور کے ماہر ہیں اور شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر ایمریٹس ہیں۔وہ کہتے ہیں
"یہاں ان گنت مذاہب ہیں، ہر ایک مذہب حقیقت کے بارے میں مختلف دعوے کرتا ہے، نہ صرف اپنے اپنے خدا کی فطرت کے بارے میں، بلکہ تاریخ کے بارے میں، معجزات کے بارے میں، جو کچھ ہوچکا ہے اس کے بارے میں۔ اور وہ سب دعوے ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اس لیے وہ سب سچ نہیں ہو سکتے"۔
جیری اے کوئن مذہب کو توہم پرستی سے تشبیہ دیتے ہیں۔ انہوں نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام تھا، "عقیدہ بمقابلہ حقیقت: سائنس اور مذہب کیوں مطابقت نہیں رکھتے۔"
جیری کوئن کہتے ہیں کہ غیر مطابقت یہ ہے کہ سائنس اور مذہب دونوں اس بارے میں بیان دیتے ہیں کہ کائنات میں کیا سچ ہے "سائنس کے پاس ان کی تصدیق کا ایک طریقہ ہے اور مذہب کے پاس کوئی طریقہ موجود نہیں ہے۔ لہذا، سائنس تجرباتی استدلال یا نقل کرنے والے تجربات ایسی سائنس ٹول کٹ پر مبنی ہے، جبکہ مذہب تیقن اور بھروسے پر مبنی ہے۔
کوئن کا کہنا ہے "سائنسدان، عام طور پر، عام لوگوں کے مقابلے میں بہت کم مذہبی ہوتے ہیں۔ اور سائنس دان کے طور پر آپ جتنے زیادہ کامیاب ہوں گے، آپ اتنے ہی کم مذہبی بنیں گے۔
1998 کے ایک سروے سے پتا چلا کہ نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کے، جو کہ امریکہ کی سب سے باوقار سائنسی تنظیموں میں سے ایک ہے، 93 فیصد اراکین خدا پر یقین نہیں رکھتے۔
سائنس اور عقیدے کی آمیزش
تاہم، دنیا کے چند سرکردہ سائنس دان ایسے بھی ہو گزرے ہیں جو باقاعدہ کسی مذہبی عقیدے پر یقین رکھتے تھے۔
کہکشـاؤں کی رنگین تصاویر
1/11ناسا نے منگل کو پہلی مرتبہ کہکشاؤں کی رنگین تصاویر جاری کی ہیں جن میں پہاڑوں کے عقب میں ستاروں کو جگمگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان تصاویر کو دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے جیسے ریت کے پہاڑوں کو ہم ایک ہاتھ کے فاصلے سے دیکھ رہے ہوں۔
امریکی خلائی ادارے ناسا نے 'جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ' کے ذریعے حاصل ہونے والی کہکشاؤں کی رنگین تصاویر جاری کر دی ہیں۔ منگل کو جاری کردہ ان تصاویر میں نظر آنے والی روشنی ہزاروں کہکشـاؤں کا مجموعہ ہے اور یہ ایسا ہی ہے جیسے ریت کے زرے کو ہم ایک ہاتھ کے فاصلے سے دیکھ رہے ہوں۔
2/11ناسا نے یہ تصاویر 'جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ' کے ذریعے حاصل کی ہیں جسے گزشتہ برس دسمبر میں خلا میں بھیجا گیا تھا۔
امریکی خلائی ادارے ناسا نے 'جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ' کے ذریعے حاصل ہونے والی کہکشاؤں کی رنگین تصاویر جاری کر دی ہیں۔ منگل کو جاری کردہ ان تصاویر میں نظر آنے والی روشنی ہزاروں کہکشـاؤں کا مجموعہ ہے اور یہ ایسا ہی ہے جیسے ریت کے زرے کو ہم ایک ہاتھ کے فاصلے سے دیکھ رہے ہوں۔
3/11ماہرین کو امید تھی جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کے ذریعے خلا میں کائنات کے نئے راز افشاں ہو سکیں گے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا نے 'جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ' کے ذریعے حاصل ہونے والی کہکشاؤں کی رنگین تصاویر جاری کر دی ہیں۔ منگل کو جاری کردہ ان تصاویر میں نظر آنے والی روشنی ہزاروں کہکشـاؤں کا مجموعہ ہے اور یہ ایسا ہی ہے جیسے ریت کے زرے کو ہم ایک ہاتھ کے فاصلے سے دیکھ رہے ہوں۔
4/11ان تصاویر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ کائنات کا اب تک کا سب سے گہرا اور تفصیلی انفراریڈ نظارہ پیش کرتی ہیں۔
امریکی خلائی ادارے ناسا نے 'جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ' کے ذریعے حاصل ہونے والی کہکشاؤں کی رنگین تصاویر جاری کر دی ہیں۔ منگل کو جاری کردہ ان تصاویر میں نظر آنے والی روشنی ہزاروں کہکشـاؤں کا مجموعہ ہے اور یہ ایسا ہی ہے جیسے ریت کے زرے کو ہم ایک ہاتھ کے فاصلے سے دیکھ رہے ہوں۔
5/11نیو یارک کے ٹائمز اسکوائر پر بڑی بڑی اسکرینوں پر کہکشاؤں کی تصاویر کو جاری کیا گیا۔
امریکی خلائی ادارے ناسا نے 'جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ' کے ذریعے حاصل ہونے والی کہکشاؤں کی رنگین تصاویر جاری کر دی ہیں۔ منگل کو جاری کردہ ان تصاویر میں نظر آنے والی روشنی ہزاروں کہکشـاؤں کا مجموعہ ہے اور یہ ایسا ہی ہے جیسے ریت کے زرے کو ہم ایک ہاتھ کے فاصلے سے دیکھ رہے ہوں۔
6/11ماہرین پراُمید ہیں کہ 'جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ' خلا میں گیس اور دُھول کے بادلوں میں بھی باآسانی سفر کر کے ستاروں کے وجود میں آنے کے عرصے کا تعین کر سکے گی۔
امریکی خلائی ادارے ناسا نے 'جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ' کے ذریعے حاصل ہونے والی کہکشاؤں کی رنگین تصاویر جاری کر دی ہیں۔ منگل کو جاری کردہ ان تصاویر میں نظر آنے والی روشنی ہزاروں کہکشـاؤں کا مجموعہ ہے اور یہ ایسا ہی ہے جیسے ریت کے زرے کو ہم ایک ہاتھ کے فاصلے سے دیکھ رہے ہوں۔
7/11کائنات میں قدیم ترین ستاروں اور کہکشاؤں کی تشکیل کا جائزہ لینے کے علاوہ ماہرینِ فلکیات انتہائی بڑے بلیک ہولز کا مطالعہ کرنے کے بھی خواہش مند ہیں۔
امریکی خلائی ادارے ناسا نے 'جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ' کے ذریعے حاصل ہونے والی کہکشاؤں کی رنگین تصاویر جاری کر دی ہیں۔ منگل کو جاری کردہ ان تصاویر میں نظر آنے والی روشنی ہزاروں کہکشـاؤں کا مجموعہ ہے اور یہ ایسا ہی ہے جیسے ریت کے زرے کو ہم ایک ہاتھ کے فاصلے سے دیکھ رہے ہوں۔
8/11ماہرین پراُمید ہیں کہ 'جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ' کے آلات کئی نئے سیاروں میں زندگی کے آثار کا کھوج لگانے جب کہ مریخ اور زخل کی برفیلی سطح کے معائنے میں بھی مددگار ہوں گے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا نے 'جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ' کے ذریعے حاصل ہونے والی کہکشاؤں کی رنگین تصاویر جاری کر دی ہیں۔ منگل کو جاری کردہ ان تصاویر میں نظر آنے والی روشنی ہزاروں کہکشـاؤں کا مجموعہ ہے اور یہ ایسا ہی ہے جیسے ریت کے زرے کو ہم ایک ہاتھ کے فاصلے سے دیکھ رہے ہوں۔
9/11تصاویر کی رونمائی کے موقع پر امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ ہم وہ ممکنات دیکھ سکتے ہیں جو آج سے پہلے کسی نے نہیں دیکھیں اور ہم ان مقامات تک پہنچ سکتے ہیں جہاں آج تک کسی نے رسائی حاصل نہیں کی۔
امریکی خلائی ادارے ناسا نے 'جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ' کے ذریعے حاصل ہونے والی کہکشاؤں کی رنگین تصاویر جاری کر دی ہیں۔ منگل کو جاری کردہ ان تصاویر میں نظر آنے والی روشنی ہزاروں کہکشـاؤں کا مجموعہ ہے اور یہ ایسا ہی ہے جیسے ریت کے زرے کو ہم ایک ہاتھ کے فاصلے سے دیکھ رہے ہوں۔
10/11ناسا کے سربراہ بل نیلسن کا کہنا ہے کہ تصویر میں دیکھی جانے والی کہکشاؤں کے عقب میں ایک دھندلی روشنیوں کا ایک مجموعہ دکھائی دے رہا ہے جس کے بارے میں یہ خیال ہے کہ یہ ساڑھے 13 ارب برس قبل وجود میں آنے والے ستارے اور کہکشائیں ہیں۔
امریکی خلائی ادارے ناسا نے 'جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ' کے ذریعے حاصل ہونے والی کہکشاؤں کی رنگین تصاویر جاری کر دی ہیں۔ منگل کو جاری کردہ ان تصاویر میں نظر آنے والی روشنی ہزاروں کہکشـاؤں کا مجموعہ ہے اور یہ ایسا ہی ہے جیسے ریت کے زرے کو ہم ایک ہاتھ کے فاصلے سے دیکھ رہے ہوں۔
11/11ان تصاویر میں ساڑھے چار ارب سال قبل وجود میں آنے والی کہکشاؤں کے ایک جھرمٹ کو دکھایا گیا ہے جسے 'اسمیکس 0723 ' کا نام دیا گیا ہے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا نے 'جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ' کے ذریعے حاصل ہونے والی کہکشاؤں کی رنگین تصاویر جاری کر دی ہیں۔ منگل کو جاری کردہ ان تصاویر میں نظر آنے والی روشنی ہزاروں کہکشـاؤں کا مجموعہ ہے اور یہ ایسا ہی ہے جیسے ریت کے زرے کو ہم ایک ہاتھ کے فاصلے سے دیکھ رہے ہوں۔
Previous slide
Next slide
بگ بینگ تھیوری، جو کائنات کی ابتداء کی وضاحت سے متعلق ہے، اسے سب سے پہلے ایک کیتھولک پادری نے تجویز کیا تھا ۔ وہ ایک ماہر فلکیات اور طبیعات کے پروفیسر بھی تھے۔
فرانسس کولنز جو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے سابق سربراہ تھے اور وہ اس پہلی بین الاقوامی کوشش کی بھی قیادت کر رہے تھے جس میں مکمل انسانی جینوم کو پہلی مرتبہ متشکل کیا گیا۔ فرانسز جو کبھی ملحد تھے، آج ان کو ایک انجیل کے ماننے والے کرسچئین کے طور پر جانا جاتا ہے۔
بوسٹن یونیورسٹی میں آثار قدیمہ اور الیکٹریکل اور کمپیوٹر انجینئرنگ کے شعبوں کے پروفیسر فاروق الباز کہتے ہیں کہ سائنس کی دنیا کے ان کے زیادہ ترساتھی سائن سائنس اور مذہب کے درمیان کوئی تنازعہ نہیں دیکھتے ہیں۔ ایک اسلامی اسکالر کے صاحبزادے ایلباز کے لیے، ویب ٹیلی اسکوپ کی دریافتوں کا کمال مذہب اور سائنس دونوں کے تصورات کے بارے میں کچھ نہ کچھ سامنے لے آتا ہے۔
ایلباز جو بوسٹن یونیورسٹی میں سنٹر فار ریموٹ سینسنگ کے ڈائریکٹر بھی ہیں۔
"سائنس دراصل مذہب کی اہمیت کو واضح کرتی ہے کیونکہ خدا نے ہمیں بتایا کہ اس نے زمین اور آسمان بنائے ہیں،" ان کے بقول۔ "اور توقع رکھی جاتی ہے کہ آسمانوں پر ہر طرح کی چیزیں موجود ہیں۔ اور سائنسی تحقیقات نے حقیقت میں یہ ثابت کیا ہے کہ ہاں، وہاں ہر طرح کی چیزیں موجود ہیں۔‘‘
بہت سے لوگوں کے لیے، سائنس اور مذہب کے درمیان تنازعات کی جڑیں کری ایشنلزم یعنی خدا کے ہاتھوں ہر چیز کے تخلیق پانے اور ایوولوشن، یعنی ارتقائی عمل سے چیزوں کے متشکل ہونے کے نظریات کے اندر پائی جاتی ہیں۔ تخلیق کائنات کے نظریے کے ماننے والے سمجھتے ہیں کہ ایک مطلق قوت نے زمین اور آسمان تخلیق کیے۔ نظریہ ارتقا کے ماننے والوں کا خیال ہے کہ زندگی کی موجودہ ہیئت احیا اور نشوونما کے ساڑھے چار ارب سال پر محیط سفر کا نتیجہ ہے۔