رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان اپنے ہاں موجود افغان طالبان کے خلاف کارروائی کرے: اشرف غنی


افغان صدر کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب گزشتہ ہفتے کابل میں افغان انٹیلی جنس کے دفتر پر طالبان نے ایک بڑا حملہ کیا تھا جس میں لگ بھگ 70 افراد ہلاک اور 340 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود طالبان کے خلاف کارروائی کرے۔

پیر کو افغان پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ چار ملکی گروپ میں پاکستان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ طالبان جو امن مذاکرات میں شامل ہونے سے انکار کریں گے اُن کے خلاف جنگ میں پاکستان بھی افغان حکومت کا ساتھ دے گا۔

افغان صدر کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب گزشتہ ہفتے کابل میں افغان انٹیلی جنس کے دفتر پر طالبان نے ایک بڑا حملہ کیا تھا جس میں لگ بھگ 70 افراد ہلاک اور 340 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

افغان عہدیداروں کا الزام ہے کہ کابل میں حملہ حقانی نیٹ ورک کے جنگجوؤں نے کیا۔

پاکستان نے کابل میں ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ دہشت گردی ایک مشترکہ دشمن ہے۔

پاکستان میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر لفیٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ یہ بالکل درست نہیں کہ پاکستان کسی بھی طرح دہشت گردوں کی معاونت کر رہا ہے۔

’’پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی جا رہی ہے۔۔۔ اس طرح کے الزامات بدقسمتی ہیں۔۔۔۔۔ میرے سامنے وزیراعظم نوازشریف نے صدر اشرف غنی کو ٹیلی فون کر کے کابل میں حملے کی مذمت کی اور دکھ کا اظہار کیا۔۔۔۔ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے۔‘‘

صدر اشرف غنی کا مجوزہ امن مذاکرات کے بارے میں کہنا تھا کہ اُن طالبان کے لیے دروازے کھلے ہیں جو خونریزی ختم کرنے اور ہتھیار پھینکے کو تیار ہیں، تاہم اُن کا کہنا تھا کہ یہ موقع ہمیشہ کے لیے نہیں ہے۔

صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ وہ یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ’’ہم پاکستان سے یہ توقع نہیں کرتے کہ وہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لائے گا۔‘‘

افغان صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے شہروں کوئٹہ اور پشاور میں پناہ لیے ہوئے طالبان ’’غلام اور افغانستان کے دشمن ہیں جو اپنے ہی ہم وطنوں کا خون بہا رہے ہیں۔‘‘

خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کے مطابق صدر اشرف غنی نے کہا کہ پاکستان کی سر زمین پر موجود افغان طالبان کے خلاف پاکستان نے فوجی کارروائی سے انکار کیا تو وہ اس معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھائیں گے۔

امریکی عہدیدار ماضی میں طالبان کی پاکستانی حدود میں موجودگی پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ جمعہ کو امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا تھا کہ حقانی نیٹ ورک سمیت دیگر افغان طالبان گروپوں کی پاکستانی سرزمین پر موجودگی سے متعلق امریکہ مسلسل اپنے تحفظات سے پاکستانی حکومت کو آگاہ کرتا رہا ہے۔

پاکستان دہشت گردوں کی مدد کرنے اور اُنھیں پناہ دینے کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔

طالبان پہلے ہی افغان حکومت سے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے یہ شرط عائد کر چکے ہیں کہ جب تک ملک سے بین الاقوامی افواج چلی نہیں جاتیں وہ امن بات چیت میں شامل نہیں ہوں گے۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغان صدر کے بیان کے ردعمل میں سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’’ٹوئیٹر‘‘ پر ایک بیان میں میں کہا کہ ’’قوم نابنیا نہیں ہے، لوگ سمجھتے ہیں کہ کون غلام ہے اور کون دوسروں کے مفاد کے لیے کام کرتا ہے۔‘‘

افغان عہدیداروں کی طرف سے طویل عرصے سے یہ الزامات لگائے جاتے رہے ہیں کہ پاکستان طالبان کے خلاف سخت کارروائی نہیں کر رہا ہے اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ طالبان افغان سرحد کے قریب پاکستانی علاقوں میں موجود ہیں۔

صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ ’’کوئی بھی اچھے یا برے دہشت گرد نہیں ہیں وہ صرف دہشت گرد ہیں‘‘ اور اُن کے بقول "پاکستان یہ بات سمجھے اور اُن کے خلاف کارروائی کرے۔"

افغانستان، پاکستان، امریکہ اور چین پر مشتمل چار ملکی گروپ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان براہ راست مذاکرات کی بحالی کے لیے کوششیں کرتا رہا ہے لیکن اس ضمن میں تاحال کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی۔

افغانستان میں حالیہ مہینوں میں تشدد کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔ ملک کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے گزشتہ ہفتے کابل میں ہونے والے حملے کے بعد پاکستان کا مجوزہ دورہ منسوخ کر دیا تھا۔

اگرچہ اُن کی طرف سے کابل حملے کا الزام براہ راست پاکستان پر نہیں لگایا گیا لیکن سماجی رابطے کی ویب سائیٹ "ٹوئیٹر" پر عبداللہ عبداللہ نے ایک پیغام میں کہا تھا کہ کابل میں ہونے والے حملے کی ابتدائی تحقیقات کے بعد اُنھوں نے دورہ پاکستان ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔

عبداللہ عبداللہ نے مئی کی دو اور تین تاریخ کو پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کی دعوت پر یہ دورہ کرنا تھا، تاہم پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان کے چیف ایگزیکٹو کے دورہ پاکستان کے حوالے سے نئی تاریخ طے کی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG