رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت کا مالدیپ کی صورت حال پر تشویش کا اظہار


مالدیپ کی پولیس سابق صدر اور حزب اختلاف کے لیڈر مامون عبدالقیوم کو حراست میں لے رہی ہے۔5 فروری 2017

سہیل انجم

بھارت نے کہا ہے کہ وہ مالدیپ میں ایمرجنسی کے نفاذ، سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کے سپریم کورٹ کے حکم کی عدم تعمیل اور عوام کے آئینی حقوق کی معطلی پر فکرمند ہے اور تشویش میں مبتلا ہے۔

وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور سیاسی قیدیوں کی گرفتاری بھی باعث تشویش ہے۔ حکومت صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

مالدیپ میں کارروائی کرنے کے لیے وہاں کی سپریم کورٹ کے ججوں اور حزب اختلاف کی جانب سے بھارت پر شدید دباؤ ہے۔ جلا وطن سابق صدر محمد نشید نے منگل کے روز بھارت اور امریکہ سے فوری کارروائی کی اپیل کی تھی۔

حکومت کے ذرائع کے مطابق اس معاملے میں بھارت SOP یعنی معیاری آپریٹنگ طریقہ کار پر عمل کرے گا جس کے تحت فوج کو تیار رکھنا بھی شامل ہے۔ تاہم بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اگلے قدم پر غور کر رہی ہے لیکن فوج بھیجنا متبادل نہیں ہے۔

بھارت مندوب بھیجنے کے حق میں بھی نہیں ہے کیونکہ اس کی گارنٹی نہیں ہے کہ صدر عبد اللہ یامین مندوب سے مذاكرات کریں گے۔

بھارت امریکہ اور سعودی عرب سمیت بعض ممالک کے ساتھ مل کر پابندیوں کے ذریعے یامین حکومت پر دباؤ ڈالنے کے حق میں ہے۔ اس نے دیگر ملکوں کے ساتھ پہلے ہی اپنے شہریوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی ہے جسے ایک مربوط ایکشن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ البتہ فوج کو تیار رکھنے کے سلسلے میں إبهام پایا جاتا ہے۔

سابق سیکرٹری خارجہ کنول سبل نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے اسٹریٹیجک مفاد میں ہو تب بھی اسے حکومت کی تبدیلی کے معاملے میں نہیں پڑنا چاہیے۔ اگر چہ صدر یامین من مانے انداز میں کام کر رہے ہیں پھر بھی یہ مالدیپ کا اندرونی معاملہ ہے۔ بھارت کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ انتظار کرے اور دیکھے کے صدر یامین مزید کوئی غلطی کرتے ہیں یا وہاں کے عوام ان کے خلاف سڑکوں پر اترتے ہیں۔

چین اور وہاں کے سرکاری میڈیا نے مالدیپ میں بھارت کی ممکنہ فوجی مداخلت کی مخالفت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس سے صورت حال اور پیچیدہ ہو جائے گی۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ مالدیپ کے اقتدار اعلی کے احترام کی بنیاد پر تعمیری رول ادا کرے۔

چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے بھی بھارت سے کہا کہ مالدیپ کے معاملات میں مداخلت نہ کرے اور سیاسی گڑبڑ کو وہاں کا داخلی معاملہ تصور کرے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG