رسائی کے لنکس

صومالیہ میں خشک سالی جاری، ہیضہ بھی پھوٹ پڑا


موغادیشو کے قریب ایک پناہ گزین کیمپ میں ایک صومالی عورت اپنے بیمار بچے کے ساتھ امداد کے انتظار میں بیٹھی ہے، اپریل 2017

صومالیہ میں جہاں خشک سالی کے باعث پہلے ہی پانچ لاکھ سے زیادہ لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں اور غیر ملکی امداد پر گذر بسر کر رہے ہیں ، وہاں ہیضے کی وبا پھوٹنے سے صورت حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

صومالیہ میں علاقائی خشک سالی کے باعث پانچ لاکھ سے زیادہ لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں اور ملک میں قحط کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ امدادی کوششیں ہیضے کی ایک وبا کے پھوٹنے کے باعث مزید پیچیدہ شکل اختیار کر رہی ہیں خاص طور پر ملک کے جنوبی حصے میں جہاں کچھ دیہات بدستور الشباب کے کنٹرول میں ہیں۔

پانچ سالہ فاطمہ کو معدے کی تکلیف، الٹی اور اسہال کے بعد ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ا س کی والدہ بشارو محمد نے صومالی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ایک اور بچے کو نہیں کھو سکتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میری سب سے بڑی بیٹی اسہال میں مبتلا تھی وہ دو ماہ قبل بیدواکے ایک مضافاتی گاؤں بوسلی میں انتقال کر گئی تھی ۔ میں اپنی سب سے چھوٹی بیٹی کو گھر چھوڑ کر آئی ہوں ۔ میری تین بیٹیا ں ہیں ۔ میری مرحوم بیٹی سات سال کی تھی۔

امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ ہیضے اور بھوک سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے بوسلی جیسے دیہات ہیں جو الشباب کے کنٹرول میں ہیں ۔ان تک رسائی ایک چیلنج ہے ۔ ہزاروں لوگ مدد کی تلاش میں پیدل چل کر سرکاری کنٹرول کے علاقوں مثلاً بیدو پہنچے ہیں۔

صومالیہ سے جنوری کے مہینے سے ہیضے کے چالیس ہزار سے زیادہ واقعات کی اطلاعات آئی ہیں ۔ ان میں سے نصف سے زیادہ مریضوں کا تعلق جنوب مغربی وفاقی ریاست سے ہے ۔اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق ، ہیضے کے زیادہ تر مریض غذائی قلت میں مبتلا بچے ہیں۔ صحت کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس ماہ جنوبی اور وسطی صومالیہ میں بارشیں ہیضے کی ایک تازہ وبا کی ایک وجہ بنی ہیں۔

علاقے کے سب سے بڑے بے ریجنل اسپتال کے ایک خصوصی وارڈ میں اس بیماری سے کمزور درجنوں مریضوںکا علاج ہو رہا ہے۔

اسپتال کی سپر وائزر سلیمہ شیخ شعیب کہتی ہیں کہ جب ہیضے کی وبا پھوٹنا شروع ہوئی تو ہمارے پاس بہت سے مریض تھے ۔ گزشتہ ہفتے ہمارا خیال تھا کہ پانچ مریض آئیں گے لیکن اب ہر صبح آٹھ بجے سے دوپہر تک ہمارے پاس کم از کم سولہ نئے مریض آتے ہیں ۔ صورتحال بدتر ہو رہی ہے۔

قصبے کے ارد گرد ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ بے گھر لوگ عارضی کیمپوں میں رہ رہے ہیں اور مزید لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے ۔ پینے کا صاف پانی دستیاب ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے ۔ یونیسیف اور ڈبلیو ایچ او کے تعاون سے کام کرنے والے ڈاکٹرز اور طبی کارکن ہیضے کی دوا کی فراہمی کے لئے کیمپوں میں جا رہے ہیں۔ سب سے بڑے اسپتال میں علاج کے لیے لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ ملک بھر میں ہر روز ہیضے کے 200 سے 300 کے درمیان واقعات کی خبریں مل رہی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG