رسائی کے لنکس

دہلی حکومت کو دھچکہ،20 ارکان اسمبلی کی نااہلی کا خطرہ


عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجری وال، فائل فوٹو

سہیل انجم

دہلی کی عام آدمي پارٹی کی حکومت کو اس وقت شديد دھچکہ لگا جب الیکشن کمشن نے پارٹی کے 20 ارکان اسمبلی کو نا اہل قرار دینے کی سفارش کرتے ہوئے اس کی فائل صدر رام ناتھ کووند کے پاس بھیج دی ہے۔ اگر وہ اس پر دستخط کر دیتے ہیں جس کا قوی امکان ہے تو 20 حلقوں میں ضمنی انتخابات کرانے ہوں گے۔

کمشن نے یہ سفارش” آفس آف پرافٹ“کے معاملے میں کی ہے۔ عام آدمي پارٹی نے اقتدار میں آنے کے بعد 20 ارکان اسمبلی کو پارلیمانی سیکرٹری مقرر کیا تھا۔ قواعد و ضوابط کے مطابق پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے ارکان کہیں اور سے تنخواہ نہیں لے سکتے۔

کانگریس کی دہلی شاخ کے صدر اجے ماکن نے اس فیصلے کے خلاف الیکشن کمشن میں شکایت کی تھی۔

70 رکنی اسمبلی میں پارٹی کے ارکان کی تعداد 65 ہے۔ اگر20 ارکان نااہل قرار دے دیے جاتے ہیں تب بھی حکومت کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ اسے اپنی حکومت بچانے کے لیے 35 ارکان کی ضرورت ہے جبکہ 20 ارکان کے نااہل ہونے کے بعد بھی اسمبلی میں اس کے ممبروں کی تعداد 45 رہے گی۔

عام آدمي پارٹی نے الیکشن کمشن کے فیصلے کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ کمشن نے اس کے دلائل نہیں سنے۔ پارٹی ترجمان راگھو چڈھا نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ کمشن نے ہمیں اپنا موقف پیش کرنے کا موقع نہیں دیا جو کہ فطری انصاف کے اصولوں کے شديد منافی ہے۔

سینسر لیڈر آشوتوش نے کہا کہ ’کمشن کے دفتر کو وزیر اعظم کے دفتر کا لیٹر باکس نہیں بننا چاہیے‘۔

اے کے جوتی چند روز کے اندر اپنے منصب سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔

اس سے قبل بھی ان کے فیصلوں پر نکتہ چینی ہوتی رہی ہے۔ ان پر حکومت کا ہمنوا ہونے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔

اجے ماکن نے اروند کیجری وال سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب انہیں اس منصب پر رہنے کا کوئی حق نہیں۔ نصف سے زائد وزار کو بدعنوانی کے الزام میں ہٹایا جا چکا ہے۔’ اس حکومت میں سیاسی شفافیت نہیں ہے‘۔

بی جے پی کے ترجمان سمبت پاترا نے الزام عائد کیا کہ عام آدمي پارٹی دنیا کی سب سے بڑی بدعنوان پارٹی ہے۔ ان کے نصف سے زائد ارکان کے خلاف مقدمات چل رہے ہیں۔

کیجری وال نے اپنی رہائش گاہ پر پارٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔

2015میں اسمبلی انتخابات میں عام آدمي پارٹی کو 70-رکنی اسمبلی میں 67 نشستوں پر کامیابی ملی تھی۔ بی جے پی کے حصے میں تین نشستیں آئیں تھیں جبکہ کانگریس کا کوئی امیدوار کامیاب نہیں ہوا تھا۔

اس کے بعد سے ہی مرکزی حکومت اور دہلی حکومت میں ٹکراؤ جاری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG