رسائی کے لنکس

logo-print

آتش تاثیر کی بھارتی شہریت منسوخ


آتش تاثیر (فائل فوٹو)

بھارت کی حکومت نے برطانوی مصنف اور پاکستان کے صوبے پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے آتش تاثیر کی شہریت منسوخ کر دی ہے۔

بھارتی وزارتِ داخلہ کے مطابق آتش تاثیر کی اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (او سی آئی) کا اسٹیٹس ختم کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ برطانوی شہریت رکھنے والے آتش تاثیر نے بھارتی شہریت حاصل کرنے کے لیے اپنے والد کے پاکستانی شہری ہونے سے متعلق حقائق کو چھپایا۔

بھارت کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ آتش تاثیر کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے کا 'ٹائم' میگزین میں شائع ہونے والے ان کے ایک حالیہ مضمون سے کوئی تعلق نہیں ہے جس میں انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کی تھی۔

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ آتش تاثیر کو وضاحت کے لیے وقت دیا گیا تھا لیکن وہ مقررہ وقت میں اپنا جواب داخل نہیں کرا سکے۔

لیکن آتش تاثیر نے کہا ہے کہ انہیں جواب جمع کرانے کے لیے صرف 24 گھنٹوں کی مہلت دی گئی تھی جس میں توسیع کے لیے انہوں نے درخواست دی تھی۔ ان کے بقول قوانین کے تحت انہیں جواب داخل کرانے کے لیے 21 روز کا وقت دیا جانا چاہیے تھا۔

آتش تاثیر نے اپنی ٹوئٹ میں بھارتی وزارتِ داخلہ کی جانب سے وصول ہونے والی جوابی ای میل کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے بعد ان سے وزارتِ داخلہ نے کوئی رابطہ نہیں کیا۔

بھارتی وزارتِ داخلہ کے مطابق آتش تاثیر کا 'او سی آئی' کارڈ 1955 کے ایکٹ کے تحت منسوخ کیا گیا کیوں کہ وہ آتش تاثیر بنیادی نوعیت کی معلومات خفیہ رکھنے کے مرتکب پائے گئے ہیں۔

بھارتی جماعت کانگریس سے تعلق رکھنے والے رکنِ اسمبلی ششی تھرور نے واقعے سے متعلق اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ہماری حکومت اتنی کمزور ہو گئی ہے کہ اسے ایک صحافی سے خطرہ ہے۔

ششی تھرور نے اپنی ٹوئٹ میں آتش تاثیر کے ٹائم میگزین میں چھپنے والے آرٹیکل کا حوالہ بھی دیا ہے جس میں آتش نے بھارتی وزیرِ اعظم کو 'ڈیوائیڈر ان چیف' کہا تھا۔

بھارتی حکومت کے فیصلے پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔

اخبار 'دی ہندو' کی سینئر صحافی سوہاسنی حیدر کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف سب سے حیران کن الزام ہے کہ انہوں نے کچھ پوشیدہ رکھا۔ انہوں نے 2007 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب میں تفصیل سے لکھا ہے کہ ان کی پرورش بھارت میں ہوئی تھی جو صرف ان کی بھارتی والدہ نے کی۔

سینئر صحافی برکھا دت اپنے ٹوئٹ میں کہتی ہیں کہ بھارت کی حکومت نے آتش تاثیر کے معاملے میں جو بھی وجوہات پیش کی ہیں ان سے ہٹ کر دیکھا جائے۔ اس حقیقت پر بھی غور کرنا چاہیے کہ ان کی پرورش ایک تنہا ماں نے کی۔ چاہے آپ ان خاتون سے کسی بھی قسم کے اختلاف رکھتے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ دیکھایا کہ وہ اپنی مرضی کی زندگی جینا جانتی ہیں۔

آتش تاثیر کی والدہ تولین سنگھ کا سلمان تاثیر سے کیا تعلق تھا؟

آتش تاثیر 27 نومبر 1980 کو برطانیہ میں پیدا ہوئے تھے۔ آتش کی پرورش دہلی میں ہوئی۔ انہوں نے تمل ناڈو کے کوڈئی کنال انٹرنیشنل اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ وہ اس وقت نیو یارک میں مقیم ہیں۔

ان کی والدہ تولین سنگھ بھارتی شہری اور صحافی ہیں، روزنامہ 'انڈین ایکسپریس' میں ہفتہ وار کالم لکھتی ہیں، اور ٹویٹر پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں کی حمایت میں اپنے خیالات کا اظہار کرتی رہتی ہیں۔

تولین سنگھ کی پاکستانی سیاستدان اور پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر سے کبھی شادی نہیں ہوئی تھی۔ سلمان تاثیر کی تولین سنگھ سے ملاقات زمانہ طالب علمی کے دوران برطانیہ میں ہوئی تھی۔ تولین سنگھ نے 1982 میں ایک حلف نامہ جمع کرایا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ آتش تاثیر کی واحد نگران ہیں۔

آتش تاثیر کی اپنے والد سلمان تاثیر سے پہلی ملاقات 2002 میں ہوئی تھی جس کے بعد بقول ان کے، ان کا اپنا والد سے کوئی رابطہ نہیں رہا۔

آتش تاثیر کے مطابق وہ دو سے دس سال کی عمر تک اور پھر 26 سے 35 سال کی عمر کے دوران بھارت میں رہے۔ ان کے بقول ایک بھارتی بینک میں ان کا اکاونٹ ہے اور وہ بائیو میٹرک شناخت نمبر رکھنے کے علاوہ ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں۔

سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا تعلق پاکستان کی سابق حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا اور وہ پی پی کے دورِ حکومت میں 2008 سے 2011 تک پنجاب کے گورنر رہے۔

سلمان تاثیر کو چار جنوری 2011 کو اسلام آباد کی کوہسار مارکیٹ میں ان کی حفاظت پر مامور پنجاب کی ایلیٹ فورس کے ایک اہلکار نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔

سابق گورنر پنجاب توہین مذہب کے الزام میں سزا پانے والی آسیہ بی بی کی رہائی کے لیے بھی سرگرم تھے۔
سابق گورنر پنجاب توہین مذہب کے الزام میں سزا پانے والی آسیہ بی بی کی رہائی کے لیے بھی سرگرم تھے۔

بعدازاں پولیس کانسٹیبل ممتاز قادری نے عدالت میں اپنے بیان میں کہا تھا کہ سلمان تاثیر توہینِ مذہب کے مرتکب ہوئے تھے اور انہیں قتل کرنے پر اسے کوئی پشیمانی نہیں ہے۔

سلمان تاثیر نے پاکستان میں توہینِ مذہب کے قوانین کو ناقص قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ان قوانین کو تبدیل کرائیں گے۔ سلمان تاثیر کی ایک اہلیہ آمنہ تاثیر اور ان کے بچے پاکستان میں ہی مقیم ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG