رسائی کے لنکس

محمود عباس کا 15 سال بعد فلسطین میں پارلیمانی و صدارتی انتخابات کا اعلان


صدر کی طرف سے انتخابات کرانے کا فیصلہ وفاقی الیکشن کمیشن کے سربراہ حنا ناصر کو پیش کیا گیا۔

فلسطین کے صدر محمود عباس نے رواں سال کے وسط میں پارلیمانی اور صدارتی انتخابات منعقد کرانے کا اعلان کیا ہے۔

فلسطین میں 2006 میں منعقد الیکشن کے بعد یہ پہلے انتخابات ہوں گے۔ 2006 میں ہونے والے انتخابات میں حماس نے واضح برتری حاصل کی تھی۔

پندرہ سالوں بعد ہونے والے یہ انتخابات صدر محمود عباس کی جماعت 'الفتح' اور 'حماس' کے لیے کٹھن ہوں گے۔ جب کہ حماس کی طرف سے بھی صدر محمود عباس کے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔

دونوں جماعتوں کو ماضی قریب میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون نہ کرنے، عوامی حمایت کے حصول میں ناکامی اور دونوں کے کنٹرول والے علاقوں میں عوام کو بنیادی ضروریات کی عدم فراہمی پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

فتح اور حماس ایک دہائی سے انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔ تاہم دونوں جماعتیں انتخابات کے انعقاد اور انتخابی عمل سے متعلق تنازعات کا شکار رہی ہیں جس کے باعث ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ انتخابات ہو بھی سکیں گے یا نہیں۔

دوسری طرف ان انتخابات سے امریکی نو منتخب صدر جو بائیڈن کی فلسطینیوں کو دی جانے والی امداد سے متعلق منصوبے بھی خطرے میں پڑ جائیں گے۔ جو کہ اسرائیل کے ساتھ امن عمل کو شروع کرنے کے خواہاں ہیں۔

سن 2006 کے انتخابات میں حماس کو ملنے والی فتح، جو کہ اسرائیل اور مغربی ملکوں کے مطابق ایک عسکریت پسند گروپ ہے، سے حکام پر بین الاقوامی دباؤ بڑھ گیا تھا۔

دونوں جماعتوں کے درمیان ایک سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی جھڑپوں کے بعد 2007 میں حماس غزہ کی پٹی پر اپنا عمل دخل برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ۔ جو کہ اسرائیل کے ساتھ ہونے والی تین جنگوں کے باوجود ابھی تک قائم ہے۔ مغربی کنارے پر قائم آبادی کے بڑے مراکز پر صدر محمود عباس کی حکومت قائم ہے۔

فلسطین میں سن 2006 میں منعقد ہونے والے انتخابات کے بعد یہ پہلے انتخابات ہوں گے۔ جن میں اسلامی عسکریت پسند گروپ ‘حماس’ کو واضح برتری حاصل ہوئی تھی۔ (فائل فوٹو)
فلسطین میں سن 2006 میں منعقد ہونے والے انتخابات کے بعد یہ پہلے انتخابات ہوں گے۔ جن میں اسلامی عسکریت پسند گروپ ‘حماس’ کو واضح برتری حاصل ہوئی تھی۔ (فائل فوٹو)

اسرائیل نے مغربی کنارے، غزہ اور مشرقی یروشلم پر 1967 کی جنگ کے بعد قبضہ کیا تھا جو کہ فلسطینی اپنی مطلوبہ ریاست میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔

صدر محمود عباس کے اعلان کے مطابق قانون ساز اسمبلی کے لیے رواں سال 22 مئی کو انتخابات منعقد ہوں گے۔ جب کہ صدارتی انتخابات کا انعقاد 31 جولائی کو ہو گا۔

اس کے علاوہ ‘فلسطین لبریشن آرگنائزیشن’ کی نیشنل کونسل، جو کہ فلسطینی مقصد کو بین الاقوامی سطح پر پیش کرتی ہے، اس کے انتخابات رواں سال 31 اگست کو منعقد ہوں گے۔

واضح رہے کہ محمود عباس 2005 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں چار سالہ مدت کے لیے منتخب ہوئے تھے۔

صدر محمود عباس کی طرف سے یہ فیصلہ ‘وفاقی الیکشن کمیشن’ کے سربراہ حنا ناصر کو پیش کیا گیا۔

دوسری طرف انتخابات کے انعقاد کے فیصلے کو حماس کی طرف سے بھی خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔

حماس کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس دن کے لیے انہوں نے بہت کوششیں کی ہیں اور ان کی جانب سے بہت لچک کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔

حماس کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس دن کے لیے انہوں نے بہت کوششیں کی ہیں اور ان کی جانب سے بہت لچک کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ (فائل فوٹو)
حماس کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس دن کے لیے انہوں نے بہت کوششیں کی ہیں اور ان کی جانب سے بہت لچک کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ (فائل فوٹو)

بیان میں انتخابات سے پہلے مذاکرات کے انعقاد کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ حماس اور فتح کی طرف سے متعدد بار صلح کی کوششیں کی گئیں۔ تاہم تمام کوششیں دونوں کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات کے باعث کارگر ثابت نہ سکیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG