رسائی کے لنکس

logo-print

ایبولا کے مریض سے 100 افراد رابطے میں آئے، امریکی حکام


حکام نے کہا ہے کہ 12 سے 18 افراد جن کے لیے بتایا جاتا ہے کہ وہ مریض کے ساتھ قریبی تعلق میں آچکے ہیں

وفاقی اور ٹیکساس کے صحت سے متعلق اہل کار لگ بھگ 100 افراد کا معائنہ کریں گے، جِن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر امریکہ میں ایبولہ کے واحد مریض سے کسی نہ کسی طرح تعلق میں رہے تھے۔

تاہم، ’سینٹرز فور ڈزیز کنٹرول‘ کے سربراہ، ٹوم فرائڈن نے کہا ہے کہ اُنھیں پورا اعتماد ہے کہ مرض کو پھیلنے سے روک دیا جائے گا۔

حکام نے کہا ہے کہ 12 سے 18 افراد جن کے لیے بتایا جاتا ہے کہ وہ مریض کے ساتھ قریبی تعلق میں آچکے ہیں، اُن کے معائنے سے پتا چلا ہے کہ کسی میں بھی اس وائرس کی علامات موجود نہیں ہیں۔ باوجود اِس کے، اُنھیں 21 روز تک کڑی نگہداشت میں رکھا جائے گا، جو کہ ایبولہ وائرس کے پھوٹنے (اخفائے مرض) کی مدت ہے۔

اِن میں اہل خانہ کے چار قریبی ارکان شامل ہیں، اُنھیں ’کوارنٹائن‘ میں رکھے جانے کے احکامات صادر کر دیے گئے ہیں، جب تک کہ ’اخفائے مرض‘ کی میعاد گزر نہیں ہوجاتی۔


مریض، جو لائبیریا کے شہری ہیں، اُن کی شناخت ٹھومس ایرک ڈنکن کی گئی ہے۔ وہ خطرے کی حالت میں ہیں، لیکن اُن کی صحت مستحکم ہے۔ وہ ڈیلاس کے اسپتال کے ’آئی سولیشن‘ وارڈ میں داخل ہیں۔

لائبیریا میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ ڈنکن کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتے ہیں، جن کے لیے بتایا گیا ہے کہ سفر کے کاغذات میں اُنھوں نے غلط بیانی سے کام لیا تھا۔ اُن سے پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ ایبولہ کے کسی مریض سے تعلق میں تو نہیں آئے۔ جس سوال پر، بتایا جاتا ہے کہ، ڈنکن نے ’نہیں‘ کہا تھا؛ حالانکہ اُنھوں نے ایبولہ وائرس کی شکار ایک حاملہ خاتوں کو خود ٹیکسی میں بٹھایا تھا۔

XS
SM
MD
LG