رسائی کے لنکس

logo-print

کابل بم دھماکوں سے پھر گوُنج اٹھا، 17 ہلاک


افغان حکام نے کہا ہے کہ جمعہ کی صبح وسطی کابل میں ایک نو منزلہ شاپنگ سنٹر اور ہوٹل کے قریب یکے بعد دیگرے بم دھماکوں میں 17ا فراد ہلاک اور 32 زخمی ہوگئے ۔ دھماکوں کے بعد علاقے میں وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

دو افغان پولیس اہلکار اس حملے میں ہلاک ہوگئے جبکہ مرنے اور زخمی ہونے والے دوسر ے افراد میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ شاپنگ سنٹر کی عمارت سے دھواں اٹھتا دیکھاگیا تاہم جس وقت یہ دھماکا ہوا وہاں بہت کم لوگ موجود تھے۔

پولیس نے علاقے کو فوری طور پر گھیرے میں لے لیا اور حکام کے بقول یہاں پردو خُودکش بمباروں کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا۔ طالبان شدت پسندوں نے یہ حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

جمعہ کو پیش آنے والے اس واقعے سے ایک ماہ قبل کابل میں دن دھاڑے طالبان جنگجوؤں نے ایک حملہ کر کے پانچ افراد کو ہلاک اور 70 سے زائد کو زخمی کر دیا تھا۔

تشدد کی تازہ کارروائی سے ایک روز قبل افغان حکومت نے اعلان کیا تھا کہ جنوبی صوبے ہلمند کے مرکزی شہر مارجہ پر سرکاری پرچم لہرانے کے بعد علاقے میں حکومت کی عملدآری قائم کر دی گئی ہے۔ اس شہر سے طالبان شدت پسندوں اور منشیات کے سمگلروں کا خاتمہ کرنے کے لیے 15 ہزار نیٹو اور افغان افواج ایک بڑی کارروائی میں مصروف ہیں۔

جمعرات کو مارجہ کے مرکزی علاقے میں اس وقت سینکڑوں افراد جمع تھے جب افغان فوجی افسران نے وہاں سبز، سرخ اور کالے رنگوں پر مشتمل افغانستان کا سرکاری جھنڈا لہرایا۔

امریکی وزارت دفاع پنٹاگان کے ترجمان جیف مورل کا کہنا ہے کہ مارجہ میں جاری ’’آپریشن مشترک‘‘ مثبت سمت میں بڑھ رہا ہے اور عسکریت پسندوں کا صفایا کرنے کے بعد اب وہاں اتحادی افواج اپنی پوزیشنیں مستحکم کر رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ صور ت حال بہر حال اب بھی پُر خطر ہے اور زمین میں چھپائے گئے دیسی ساختہ بم بدستور ایک بڑا خطرہ ہیں۔

XS
SM
MD
LG