رسائی کے لنکس

logo-print

افغان انتخابات: جانچ پڑتال، منسوخی کا ضابطہ کار ندارد


جمعے کے دٕن، خودمختار انتخابی کمیشن نے اِس بات کو تسلیم کیا کہ جانچ پڑتال کے دوران گذشتہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ڈالے گئے 81 لاکھ ووٹوں میں سے، بقول اُن کے، ’کوئی ایک ووٹ بھی منسوخ نہیں ہوا‘

افغانستان کےخودمختار انتخابی کمیشن کا کہنا ہے کہ صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے60 فی صد بیلٹ باکس جانچ پڑتال کے لیے کابل میں ادارے کے صدر دفتر پہنچ چکے ہیں۔

تاہم، نور محمد نور نے جمعے کے روز اِس بات کو تسلیم کیا کہ جانچ پڑتال کے دوران گذشتہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ڈالے گئے 81 لاکھ ووٹوں میں سے، بقول اُن کے، ’کوئی ایک ووٹ بھی منسوخ نہیں ہوا‘۔

اُنھوں نے کہا کہ کسی ووٹ کو غیر قانونی اس لیے قرار نہیں دیا گیا،کیونکہ، بقول اُن کے، ’ابھی کسی ووٹ کو ناقص قرار دینے کا کوئی ضابطہ کار موجود نہیں‘۔


نور نے کہا کہ انتخابی کمیشن کی جانب سے جمعے کے روز غیر قانونی قرار دینے کے مجوزہ ضابطے کار پر اقوام متحدہ سے بات چیت جاری رہی۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی ثالثی میں طے پانے والے ایک سمجھوتے کے تحت، متحارب افغان صدارتی امیدواروں عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی نے اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ڈالے گئے تمام ووٹوں کی جانچ پڑتال ہوگی اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ حتمی نتائج کی پاسداری کی جائے گی۔

پانچ اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں لاکھوں افغانوں نے شرکت کی تھی، باوجود یہ کہ طالبان کی طرف سے تشدد کی کارروائیوں کی دھمکی دی گئی تھی۔ انتخابی اہل کاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ 14 جون کے ووٹوں کے دوسرے مرحلے کے دوران زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالے گئے۔ عبداللہ کو پہلے مرحلے میں سبقت حاصل تھی، لیکن دوسرے مرحلے کے ابتدائی نتائج کے مطابق، اشرف غنی کو تقریباً 10 لاکھ ووٹ زیادہ پڑے۔

عبداللہ نے انتخابات کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے صدر حامد کرزئی، انتخابی حکام اور اشرف غنی پر سازش رچا کر ووٹوں میں دھاندلی کا الزام لگایا، جب کہ یہ موقع تھا کہ افغانستان کی تاریخ میں اقتدار کی پہلی پُرامن منتقلی کا اعزاز حاصل ہوتا۔

XS
SM
MD
LG