رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: صدارتی انتخابات ایک بار پھر ملتوی


فائل فوٹو

افغانستان میں صدارتی انتخاب ایک بار پھر دو ماہ کے لئے مؤخر ہو گئے ہیں اور اب یہ 28 ستمبر کو ہوں گے۔ اس سے قبل جولائی میں الیکشن کرانے کا اعلان کیا گیا تھا۔

افغانستان کے انتخابی بورڈ کا کہنا ہے کہ یہ التوا ووٹنگ کے پراسیس میں پیش آنے والے مسائل کو دور کرنے کی غرض سے کیا گیا ہے۔

آزاد الیکشن کمشن کے ترجمان عبدالعزیز نے کہا ہے کہ دوسری بار ہونے والے اس التوا سے ووٹنگ کے مرحلے سے متعلق اصلاحات کی تکمیل میں مدد ملے گی۔

اس سے قبل طے شدہ پروگرام کے مطابق افغان صدر کا انتخاب اپریل میں ہونا تھا۔ تاہم اسے سرد موسم اور سلامتی کے مسائل کی وجہ سے 20 جولائی تک مؤخر کر دیا گیا تھا۔ اب یہ انتخابات ایک بار پھر دو ماہ کے لئے ملتوی کر دئے گئے ہیں۔

افغانستان میں پارلیمانی انتخابات موسم خزاں میں مکمل ہو گئے تھے۔ تاہم ان انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی، بیلٹ بکس کو جعلی ووٹوں سے بھرنے اور بائیومیٹرک رجسٹریشن کی مشینوں میں ٹیکنکی خرابیوں کے الزامات عائد کئے گئے تھے۔ اس کے علاوہ طالبان کے حملوں سے بھی یہ انتخابات متاثر ہوئے تھے۔

آئندہ صدارتی انتخاب میں موجودہ صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور قومی سلامتی کے سابق مشیر حنیف اتمار اُمیدوار ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی اہل کاروں اور طالبان کے درمیان گزشتہ چند ہفتوں سے جاری امن مذاکرات بھی ممکنہ طور پر آئندہ صدارتی انتخاب پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

طالبان افغان صدر اشرف غنی کی حکومت سے براہ راست مذاکرات سے یہ کہتے ہوئے انکار کرتے آئے ہیں کہ وہ اس حکومت کو افغانستان کی جائز حکومت تسلیم نہیں کرتے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG