رسائی کے لنکس

logo-print

ہلمند: طالبان اور افغان فورسز میں جھڑپیں جاری


پولیس سربراہ کے مطابق پورا ضلع مارجہ عملاً طالبان کے قبضے میں جاچکا ہے اور افغان حکومت کی عمل داری صرف ضلعے کے وسط میں واقع چند سرکاری عمارتوں تک محدود رہ گئی ہے۔

افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند کے ایک اہم ضلعے پر قبضے کے لیے طالبان اور افغان سکیورٹی فورسز کے درمیان جاری جھڑپیں شدت اختیار کرگئی ہیں۔

ہلمند پولیس کے سربراہ عبدالرحمن سارجنگ نے اتوار کو صحافیوں کو بتایا ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز کے دستے ضلع مارجہ کے گورنر ہاؤس اور پولیس اور فوج کے ضلعی دفاتر تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں جب کہ ارد گرد کا تمام علاقہ طالبان جنگجووں کے قبضے میں چلا گیا ہے۔

پولیس سربراہ کے مطابق پورا ضلع مارجہ عملاً طالبان کے قبضے میں جاچکا ہے اور افغان حکومت کی عمل داری صرف ضلعے کے وسط میں واقع چند سرکاری عمارتوں تک محدود رہ گئی ہے۔

افغانستان کا بنجر اور نیم صحرائی صوبہ ہلمند پوست کی کاشت کےلیے مشہور ہے اور طالبان کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد سے طالبان نے اس صوبے پر اپنا دباؤ بڑھا دیا ہے اور وہ وقتاً فوقتاً صوبے کے مختلف علاقوں پر قابض ہوتے رہتے ہیں۔

چند ہفتے قبل جنگجووں نے صوبے کے شمالی اضلاع موسیٰ قلعہ اور نوزاد اور جنوبی علاقے خانِ شیں پر قبضہ کرلیا تھا جو اسمگلنگ کا ایک بڑا مرکز تصور کیا جاتا ہے۔

ہلمند کے ان اضلاع پر قبضے کے بعد سے طالبان مسلسل صوبائی دارالحکومت لشکر گاہ پر اپنا دباؤ بڑھا رہے ہیں اور ضلع مارجہ پر قبضے کا مقصد بھی دارالحکومت کے گرد محاصرہ تنگ کرنا ہے۔

لشکر گاہ سے صرف 35 کلومیٹر کے فاصلے مرجاہ پر قبضے کے لیے طالبان کے حملے گزشتہ ایک ماہ سے جاری ہیں جہاں افغان فورسز سخت مزاحمت کر رہی ہیں۔

ضلعے کو لشکر گاہ سے ملانے والی مرکزی شاہراہ کی 12 کلومیٹر طویل پٹی بھی گزشتہ کئی ہفتوں سے طالبان کے قبضے میں ہے جس کے باعث صوبائی دارالحکومت اور مارجہ کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

صوبائی پولیس کے سربراہ عبدالرحمن سارجنگ کے مطابق افغان سکیورٹی فورسز سڑک کا قبضہ چھڑانے کے لیے کارروائی کی منصوبہ بندی کرچکی ہیں لیکن طالبان نے پورے علاقے میں سیکڑوں بارودی سرنگیں بچھادی ہیں جس کے باعث پیش قدمی نہیں ہوپارہی۔

XS
SM
MD
LG