رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان ’تاپی‘ کے تحفظ کے لیے خصوصی فورس تشکیل دے گا


افغانستان کے معدنیات و پیڑولیم کے وزیر داؤد شاہ صبا نے افغان پارلیمان کے ایوان بالا میں دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ یہ سکیورٹی فورس اس پروجیکٹ پر عمل درآمد اور گیس پائپ لائن کے راستے سے بارودی سرنگوں کی صفائی کے عمل کے دوران سکیورٹی فراہم کرے گی۔

افغانستان حکومت چار ملکی ’تاپی‘ گیس پائپ لائن منصوبے کے تحت اپنے ملک سے گزرنے والے حصے کی سکیورٹی کے لیے خصوصی سکیورٹی فورس تشکیل دے گی۔

پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق افغانستان کے معدنیات و پیڑولیم کے وزیر داؤد شاہ صبا نے افغان پارلیمان کے ایوان بالا میں دیئے گئے ایک بیان میں کہا کہ یہ سکیورٹی فورس سات ہزار اہلکاروں پر مشتمل گئی۔

اس سکیورٹی فورس کا کام چار ملکی گیس پائپ لائن منصوبے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے مجوزہ راستے سے بارودی سرنگوں کی صفائی اور بعد ازاں پچھائی گئی پائپ لائن کا تحفظ ہو گا۔

پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق افغان وزیر داؤد شاہ نے کہا کہ بارودی سرنگوں کو صاف کرنے والے آلات کے حصول کا عمل آئندہ سال جنوری میں مکمل ہو جائے گا جس کے بعد ان کے بقول گیس پائپ لائن کے راستے سے بارودی سرنگوں کی صفائی کا کام اپریل میں شروع ہو جائے گا۔

ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور بھارت پر مشتمل چار ملکی گیس پائپ لائن منصوبے کی تعمیر کے کام کا آغاز رواں ماہ کے اوائل میں ہوا، اور اس پر 10 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔

پاکستانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ 1,800 کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن کا یہ منصوبہ دسمبر 2019 میں مکمل ہو گا۔

تاہم افغانستان میں سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے باعث اس منصوبے کی بروقت تکمیل اور بعد ازاں اس کو محفوظ بنانے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

تجزیہ کار اکرام سہگل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ افغانستان کی طرف سے خصوصی سکیورٹی فورس کی تشکیل ایک خوش آئند اقدام ہو گا۔

’’یہ اعلان تو بہت اچھا ہے، کیونکہ ظاہر ہے کہ تاپی گیس پائپ لائن جس علاقے سے گزرے گی وہاں کافی دشواریاں ہیں اور سکیورٹی کے مسائل ہیں۔ اگر معمول کے حالات ہوں تو بھی سکیورٹی کی ضرورت ہوتی ہے لیکن (وہاں) سیکورٹی کے غیر معمولی حالات ہیں اس لیے سکیورٹی کو بڑھانا پڑے گا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ یہ گیس پائپ لائن منصوبہ شریک ممالک کے لیے اقتصادی طور پر نہایت اہم ہو گا۔

’’اگر یہ منصوبہ مکمل ہو جاتا ہے تو یہ اقتصادی طور پر افغانستان، پاکستان اور بھارت کو جوڑے گا۔ تو افغان حکومت نے جو (سیکورٹی فورس کی تشکیل) اعلان کیا ہے وہ ان کی (اس منصوبے سے) وابستگی کے عزم کا اظہار ہے۔‘‘

رواں ماہ کے اوائل میں ترکمانستان کے صدر قربان گلی بردی محمدوف نے سرکاری گیس کمپنیوں کو ملک کے اندر پائپ لائن بچھانے کا کام شروع کرنے کی ہدایت کی تھی۔

پاکستان، بھارت اور افغانستان کو توانائی کی کمی کا سامنا ہے اور اس منصوبے کے مکمل ہونے سے تییوں ملکوں کی گیس کی ضروریات کو بڑی حد تک پورا کرنے میں مدد ملے گی۔

تاپی گیس پائپ لائن وسطی ایشیا کو جنوبی ایشیا سے جوڑے والا پہلا منصوبہ ہو گا اور مبصرین کا ماننا ہے کہ اس منصوبے کی بروقت تکمیل سے اس خطے میں معاشی ترقی اور باہمی تجارت کی نئی راہیں کھلیں گی۔

XS
SM
MD
LG