رسائی کے لنکس

logo-print

افغان حکومت کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے بیان کی وضاحت طلب


کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے ایک کونسلر کو افغان دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور اُن سے وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ بیان کی وضاحت مانگی گئی آیا اس بات سے اُن کی مراد کیا ہے کہ بہت جلد افغانستان میں ایک نئی حکومت قائم ہو جائے گی۔

یہ بات افغان حکومت کے ترجمان، صبغت اللہ احمدی نے ہفتے کے روز 'وائس آف امریکہ' کی 'افغان سروس' کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ''اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت نے پاکستان حکومت کے سربراہ کے بیان پر شدید اعتراض کا اظہار کیا، اور کہا کہ اُن کے الفاظ افغانستان کے داخلی امور میں سنگین مداخلت گردانے جائیں گے''۔

صبغت اللہ احمدی نے کہا کہ ''افغانستان کی حکومت اور افغان عوام اس بات کے خواہاں ہیں کہ بالآخر طالبان افغان حکومت کے نمائندوں کے ساتھ براہ راست بات چیت میں شامل ہوں''۔

ترجمان نے کہا کہ ''پاکستانی سفارت کار کو آج دفتر خارجہ میں طلب کیا گیا''۔

پاکستان کے قبائلی علاقے کے شہر باجوڑ میں جمعے کے روز جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے پیش گوئی کی تھی کہ 17 برس پرانی لڑائی کو ختم کرنے کے لیے امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں افغانستان میں ''باہمی امن'' پیدا ہو گا۔

پاکستانی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ''افغانستان میں ایک بہتر حکومت آئے گی۔ میرا مطلب ہے، ایسی حکومت آئے گی جس میں سب کی نمائندگی ہو گی۔ لڑائی ختم ہو گی، امن آئے گا''۔

فروری میں افغان وزارت امور خارجہ نے پاکستانی سفیر زاہد نصر اللہ خان کو طلب کیا تھا، اس بیان پر کہ اگر بھارت پاکستان کے خلاف تشدد پر مبنی کوئی کارروائی کرتا ہے تو اس سے افغان امن بات چیت متاثر ہو سکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG