رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی اہلکار پر افغانستان میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ


افغان قانون سازوں نے شہری ہلاکتوں کے الزام میں زیر تحویل امریکی اہلکار کی کویت منتقلی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اپنی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جب تک ملزم پر افغانستان میں مقدمہ نہیں چلایا جاتا واشنگٹن سے اسٹریٹیجک شراکت داری کا معاہدہ نا کیا جائے۔

جنوبی صوبہ قندھار میں گزشتہ ہفتے امریکی فوجی کی مبینہ فائرنگ میں بچوں سمیت 16 افغانوں کی ہلاکت سے پہلے بھی اس مجوزہ معاہدے پر دونوں ملکوں کے مابین مذاکرات تناؤ کا شکار تھے۔ یہ معاہدہ 2014ء کے اختتام تک افغانستان سے اتحادی افواج کے لڑاکا دستوں کے انخلاء کے بعد ملک میں امریکی سکیورٹی فوسرز کے کردار کا تعین کرے گا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ متعلقہ فوجی کو بدھ کی شب کویت منتقل کر دیا گیا تھا، لیکن اس اقدام کا مقصد اہلکار پر افغانستان میں قانونی چارہ جوئی کے امکانات ختم کرنا نہیں۔

افغانستان میں تعینات امریکی افواج کے نائب کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل کرٹس سکپاروٹی (Curtis Scaparotti) نے بتایا کہ اہلکار کی منتقلی کے بارے میں افغان رہنماؤں کو آگاہ کر دیا گیا تھا اور ’’وہ اس معاملے کو سمجھتے ہیں‘‘۔

لیکن افغان قانون سازوں نے اس اقدام پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکی فوجی کے خلاف مقدمہ قائم کر کے افغانستان ہی میں اس کی کھلے عام سماعت کا مطالبہ کیا ہے۔

افغان حکومت کی جانب سے اس پیش رفت پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

امریکی وزیرِ دفاع لیون پنیٹا نے بدھ کو کہا تھا کہ افغانستان میں مناسب حراستی مرکز موجود نہیں۔

کویت میں قائم مراکز میں پہلے بھی امریکی فوجیوں کو حراست میں رکھا جاتا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG