رسائی کے لنکس

logo-print

دوحہ میں افغان امن مذاکرات حتمی سمجھوتے کے قریب؟


فائل فوٹو

افغانستان کے لیے امریکہ کے اعلیٰ مصالحت کار زلمے خلیل زاد اور طالبان وفد کے درمیان امن مذاکرات کے نویں دور کے چوتھے روز بھی بات چیت کا عمل جاری رہا۔

قطر کے شہر دوحہ میں جاری اِن مذاکرات میں طالبان کا وفد 16 ارکان پر مشتمل ہے۔ اتوار کو بات چیت مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے شروع ہوئی جو رات گئے تک جاری رہی۔

دوحہ میں وائس آف امریکہ کے نمائندے ایوب خاورین کا کہنا ہے کہ اس بات چیت کے بارے میں طالبان کے ترجمان نے وائس آف امریکہ سے خصوصی انٹرویو دینے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

طالبان کے ذرائع نے ان مذاکرات کے حوالے سے مثبت پیش رفت کا عندیہ دیا ہے۔ تاہم اس بارے میں ٹھوس معلومات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔

افغانستان کے ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ بات چیت کے موجودہ دور کے دوران افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا 15 سے 20 ماہ میں مکمل کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے اور اس سمجھوتے پر طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے ڈپٹی لیڈر ملا برادر دستخط کریں گے۔ تاہم آزاد ذرائع سے ابھی اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات چیت کے بعد افغانستان کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان بھی مذاکرات ہوں گے۔

یاد رہے کہ افغانستان میں 18 سالہ طویل جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور طالبان کے درمیان ٘مذاکرات کے آٹھ دور ہو چکے ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بات چیت کے نویں دور میں فریقین کے درمیان معاہدہ طے پا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG