رسائی کے لنکس

افغانستان میں قیام امن کی کوششیں اور غنی عبداللہ اختلافات


اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ، فائل فوٹو

افغانستان میں قیام امن کی جاری کوششوں کے تحت صورت حال میں بہتری کے سوال کا جواب آسان نہیں کیونکہ جنگ سے تباہ حال اس ملک کے مسائل پچیدہ ہیں۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ طے ہونے کے بعد حالات کے بہتر ہونے کی توقع کی جا رہی تھی اور بین الافغان مکالمے کو شروع کرنے پر زور دیا جا رہا تھا۔

دوسری جانب ایک اور بڑا مسئلہ انتخاب کے متنازع نتائج پر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان تنازعہ آرائی کا جاری رہنا ہے۔ امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے 23 مارچ کو کابل کا دورہ کیا لیکن ان کی مصالحت کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔

امریکہ نے اس کے رد عمل میں افغانستان کو دی جانے والی امداد میں ایک ارب ڈالر کی کمی کرنے کا اعلان کر دیا۔ ڈاکٹر عبداللہ عبدللہ نے 24 مارچ کو اپنی ایک پریس کانفرنس میں یہ کہا کہ امریکی امداد کی کمی کا ازالہ نہیں ہو سکتا اور ہمیں ذمے دارانہ انداز میں کام کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اشرف غنی سے مذاکرات کے لئے تیار ہیں لیکن عوام کے چوری کئے ہوئے مینڈیٹ کو قبول نہیں کیا جا سکتا بلکہ ایک قابل احترام مصالحت درکار ہے۔

بدھ کے روز کابل میں ایک گوردوارے پر نامعلوم مسلح افراد اور خود کش بمبار کے حملے میں 25 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور حکومت کے بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں تمام حملہ آور بھی مارے گئے۔ طالبان کے ایک ترجمان نے اس حملے کی تردید کی جب کہ 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

جمعرات کو افغانستان سے ملنے والی خبروں کے مطابق افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے لیے اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ قیدیوں کی رہائی کا عمل 31 مارچ سے شروع ہونے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

اس تناظر میں وائس آف امریکہ نے افغان مصنف اور تجزیہ کار ڈاکٹر حسین یاسا سے بات کی ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ طالبان قیدیوں کی رہائی کے نتیجے میں افغان امن عمل کو کیونکر تقویت ملے گی ڈاکٹر یاسا نے کہا۔

’’ جہاں تک افغان حکومت کی طرف سے طالبان قیدیوں کی رہائی کا مسئلہ ہے تو اس کے بارے میں ہمیشہ ایک سوال اٹھایا جاتا ہے کہ آیا یہ قیدی رہا ہونے کے بعد دوبارہ طالبان کی جنگی صفوں میں شامل ہو جائیں گے یا اپنے خاندانوں کے ساتھ مل کر ایک نارمل زندگی کا آغاز کریں گے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ وہ اپنے خاندانوں کے ساتھ ایک معمول کی زندگی شروع کریں تاکہ افغانستان میں امن و امان کی ٖفضا قائم ہو، ورنہ دوسری صورت میں خدشات کے مطابق لڑائی ختم ہونے کی کوئی صورت نہیں رہے گی ‘‘

ڈاکٹر یاسا نے انتخابی نتائج کے بعد اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے درمیان تنازع کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس صورت حال سے طالبان کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا۔

’’ ظاہر ہے طالبان اس صورت حال سے فائدہ اٹھائیں گے لیکن یہ عارضی فائدے ہیں جن کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ طالبان کو بھی وسیع النظری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ بہر صورت افغان عوام کی خواہش یہ ہے کہ ایک متنوع معاشرہ ہو، جس میں مختلف عقائد اور نکتہ نظر رکھنے والے افراد رہتے ہیں اور سب کو ایک ایسے نظام کے تحت زندگی گزارنا چاہئے جہاں سب کی رائے کا اور عقائد کا احترام ہو اور طالبان کو بھی یہ چاہئے کہ وہ اس قاعدے کا خیال رکھیں‘‘۔

ہمارے اس سوال کے جواب میں کہ انتخابی نتائج کے بعد پیدا ہونے والی تنازعہ آرائی کا نقصان کسے ہو گا اور دونوں حریفوں سے اس وقت کس نوعیت کی مصالحت کی توقع کی جا سکتی ہے ڈاکٹر یاسا کا کہنا تھا۔

’’اگر افغانستان میں یہ کشمکش جاری رہتی ہے اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے درمیان تو اس کا زیادہ نقصان اشرف غنی کو ہو گا۔ کیونکہ امریکہ چاہتا ہے کہ اس تنازعے میں افغان نیشنل سیکیورٹی فورسز کو کسی بھی طرح ملوث نہیں ہونا چاہئے تو اس طرح غنی صاحب کا سپورٹ بیس کمزور لگتا ہے۔ جب کہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا سپورٹ بیس عوام کے اندر مضبوط معلوم ہوتا ہے اس لئے اشرف غنی کو محتاط ہو کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہو گی۔ اگر مفاہمت کی کوئی صورت نکل آتی ہے تو یہ افغانستان کے لئے اچھا ہے اور سب کی بہتری کے لئے ہو گا۔‘‘

اب آنے والے دنوں میں یہی دیکھنا ہو گا کہ دونوں سیاسی حریف اپنے درمیان پائی جانے والی اختلافات کو دور کرنے کے لئے کس انداز میں مفاہمت کی کوشش کرتے ہیں اور امریکہ کو اپنے تعاون کا یقین کس طرح دلاتے ہیں۔ پھر افغان طالبان قیدی اپنی رہائی کے بعد کس انداز فکر کو اپناتے ہیں اور اس ساری صورت حال میں امریکہ کا کردار کیا رہے گا؟

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG