رسائی کے لنکس

logo-print

افغان حکومت کی طالبان کو جنگ بندی کی پیشکش، امریکہ کا خیر مقدم


فائل فوٹو

صدر اشرف غنی نے افغان یوم آزادی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ "مشروط جنگ بندی کل (پیر) سے شروع ہو گی اور یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک طالبان اس پر قائم رہیں گے۔"

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے افغان حکومت کی جانب سے طالبان کو عید کے موقعے پر جنگ بندی کی پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے۔

امریکی سیکرٹری خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کی پیشکش امن کے لئے افغان عوام کے واضح اور مسلسل مطالبے کا جواب ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ جنگ بندی نے افغان عوام کی جانب سے افغانستان میں قیام امن کی زبردست خواہش کا اظہار کیا تھا۔ ہمیں امید ہے کہ ایک اور جنگ بندی ملک کو پائیدار امن کی جانب لے جائے گی۔ بیان کے مطابق امریکہ اور ہمارے عالمی اتحادی افغان عوام اور افغان حکومت کی اس کوشش کے حق میں ہیں اور ہم طالبان سے اس میں شامل ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ ہمیں اور ہمارے عالمی اتحادیوں کو امید ہے کہ افغان عوام اس سال عید الاضحی بلا خوف و خطر امن کے ساتھ گزاریں .

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اتوار کو ملک میں سرگرم طالبان کے ساتھ 'مشروط 'جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ اعلان صدر غنی نے ملک میں عید الا ضحیٰ کے تہوار سے پہلے کیا ہے اور اس کا آغاز پیر سے ہو گا۔

صدر اشرف غنی نے افغان یوم آزادی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ "مشروط جنگ بندی کل ( پیر) سے شروع ہو گی اور یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک طالبان اس پر قائم رہیں گے۔"

انہوں مزید کہا کہ "ہم طالبان قیادت پر زور دیں گے کہ وہ حقیقی اور پائیدار امن کے لیے افغان عوام کی خواہشات کا خیر مقدم کریں"

صدر غنی کی حکومت کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ "مشرو ط" جنگ بندی تین ماہ تک جاری رہے گی اور بتایا گیا ہے کہ یہ پیش کش صرف افغان طالبان تک محدود ہو گی اور اس کا اطلاق شدت پسند گروپ داعش اور دیگر عسکریت پسند گرپوں پر نہیں ہو گا۔

تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ کیا طالبان نے صدر غنی کی عید الاضحیٰ کے تہوار کے موقع پر جنگ روکنے کی پیش کش کو قبول کیا یا نہیں جس کا آغاز منگل سے ہو گا۔

دریں اثنا پاکستان نے افغان حکومت کی طرف سے عیدالاضحیٰ کے موقع پر جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ان تمام کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے جو افغانستان میں پائیدار امن و استحکام کے حصول میں معاون ہو سکیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے اتوار کو جاری ہونے والے یبان کے مطابق افغانستان کے یوم آزادی پر عارضی جنگ بندی کا اعلان ہونا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔

پاکستان نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ عیدالالضحیٰ کے دوران ایثار و قربانی کی مقدس روایت کو نبھاتے ہوئے لڑائی کو روک دیں اور زیادہ بہتر ہو گا کہ یہ عمل زیادہ عرصے کے لیے ہو تاکہ افغانستان کے عوام یہ مذہبی تہوار امن و آرام سے منا سکیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان توقع کرتا ہے کہ عارضی جنگ بندی جیسے اقدامات افغانستان میں پائیدار بنیادو ں پر امن و استحکام کے ماحول کے حصول میں مدد گار ہوں گے۔

واضح رہے کہ افغان صدر نے رواں سال عیدالفطر سے دو روز قبل بھی طالبان کے خلاف تمام کارروائیاں ایک ہفتے کے لیے یک طرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

صدر اشرف غنی کی طرف سے جنگ بندی کا اعلان ایک اسے وقت ہوا ہے جب رواں ماہ غزنی کا کنڑول حاصل کرنے کے لیے طالبان اور افغان فورسز کے درمیان پانچ روز تک جاری رہنے والی شدید لڑائی ہوئی تھی جس میں کم ازکم 150 سیکورٹی فورسز کے اہلکار اور 95 عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔ گزشتہ ہفتے یہ لڑائی اس وقت بند ہوئی جب افغان فورسز نے، جنہیں امریکی فورسز کی حمایت حاصل تھی، طالبان کو شہر سے نکال باہر کیا تھا۔ دوسری طرف طالبان نے ایک بیان میں شہر کے نصف علاقے پر اپنے کنڑول کا دعویٰ کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG