رسائی کے لنکس

logo-print

افغان صدر کی طالبان کو جنگ بندی کی دوبارہ پیشکش


فائل فوٹو

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ماہ رمضان کے آغاز کے موقع پر افغان طالبان کو ایک بار پھر جنگ بندی کی پیشکش کی ہے۔ افغان صدر نے یہ بات رمضان کے آغاز پر اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہی ہے جس کا آغاز افغانستان میں پیر کو ہوا۔ صدر غنی نے کہا کہ رمضان امن و مصالحت کا مہینہ ہے۔

‘‘میں ایک بار پھر طالبان سے کہوں گا کہ مقدس مہینے کا احترام کریں اور افغانوں کے امن و مصالحت کے مطالبے کی طرف توجہ دیں جس کا اظہار امن کے لیے ہونے والے قومی مشاورتی جرگے کے موقع پر ہوا ہے۔ ’’

افغان صدر نے کہا کہ جرگے میں شریک نمائندوں نے افغانستان میں قیام امن کے لیے ایک قرار داد کی شکل میں افغان حکومت کے لیے ایک لائحہ عمل مرتب کیا ہے۔

ایک ہفتے کے دورن افغان صدر کی طرف سے طالبان کو جنگ بندی کی یہ دوسری پیش کش ہے۔

حال ہی میں افغانستان کے دارالحکومت کابل میں حکومت کی میزبانی میں ہونے والے افغان قومی مشاورتی لویہ جرگے کے اختتام پر صدر اشرف غنی نے متعدد طالبان قیدیوں کی رہائی کا اعلان کرتے ہوئے طالبان کو جنگ بندی کی پیشکش کی تھی۔ تاہم طالبان نے اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ رمضان میں لڑائی جاری رکھیں گے۔

یادر رہے کہ صدر اشرف غنی نے گزشتہ سال بھی رمضان کے آخری عشرے کے آغاز پر 20 روزہ جنگ بندی کی پیشکش کی تھی تاہم طالبان نے صرف عیدالفطر کے موقع پر تین روز کی جنگ بندی قبول کی تھی۔

صدر اشرف غنی کی طرف سے طالبان کو جنگ بندی کی تازہ پیشکش ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب طالبان اور امریکہ کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحا میں بات چیت جاری ہے۔ یہ مذاکرات ایک دن کے وقفے کے بعد منگل کو دوبارہ شروع ہوں گے۔

امریکہ طالبان پر افغان امن کے حصول کے لیے جنگ بندی اور افغان حکومت سے بات چیت پر زور دے رہا ہے تاہم طالبان یہ دونوں مطالبے ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کابل حکومت سے کسی طور بھی بات نہیں کریں گے۔ تاہم وہ یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان امن سمجھوتہ طے ہونے کے بعد وہ دیگر افغانوں کے ساتھ افغانستان کے اندرونی معاملات پر بات چیت کریں گے۔

تاہم زلمے خلیل زاد دوحا مذاکرات کے تازہ دورے سے پہلے یہ واضح کر چکے ہیں کہ فریقین کو امن کے لیے چار نکات پر متفقہ مؤقف اپنانے کی کوشش کرنا ہو گی جن میں غیر ملکی افواج کا انخلا، افغانوں کے مابین مذاکرات اور مربوط جنگ بندی شامل ہیں۔

خلیل زاد کے مطابق ان نکات پر اتفاق رائے کے بغیر حتمی سمجھوتہ طے پانا مشکل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG