رسائی کے لنکس

logo-print

پارلیمان کی منظوری کے بغیر امن معاہدہ قبول نہیں: افغان صدر


صدر اشرف غنی نو منتخب پارلیمان کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ملک کے نومنتخب ارکانِ پارلیمان پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ جاری امن عمل میں حصہ لیں۔

صدر غنی نے یہ بات جمعے کو افغانستان کے نومنتخب پارلیمان کے افتتاحی اجلاس سے خطاب میں کہی۔پارلیمان گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والے انتخابات کےنتیجے میں وجود میں آئی ہے جو دھاندلی اور بدانتظامی کے الزامات باعث خاصے متنازع ہوگئے تھے۔

اپنے خطاب میں صدر غنی کا کہنا تھا کہ افغان حکومت ملک میں قیامِ امن کے لیے منصوبہ پیش کرچکی ہے اور ان کی حکومت اس منصوبے پر عمل درآمد کرنے کے عزم پر قائم ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجوزہ منصوبے کے تحت کوئی ایسا امن معاہدہ یا مذاکرات قبول نہیں کیے جائیں گے جن کی منظوری پارلیمان سے نہ لی گئی ہو۔

افغان صدر کے بیان کا بظاہر اشارہ امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کی طرف تھا جس پر افغان حکومت ماضی میں بھی تحفظات کا اظہار کرتی آئی ہے۔

افغان صدر نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر لویہ جرگہ بھی طلب کر رکھا ہے جس کا چار روزہ اجلاس پیر سے کابل میں شروع ہوگا۔

لویہ جرگہ افغانستان میں متنازع امور اور اختلافات طے کرنے کے لیے صدیوں سے رائج ہے جس میں قبائلی رہنما، بااثر شخصیات، سیاست دان، علما اور مختلف طبقات اور قومیتوں کے نمائندے شریک ہوتے ہیں۔

صدر غنی کی حکومت نے آئندہ ہفتے شروع ہونے والے لویہ جرگےکے لیے ملک بھر سے دو ہزار سے زائد مندوبین کو مدعو کیا ہے لیکن حزبِ اختلاف کے کئی رہنماؤں نے اس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

مخالفین کا کہنا ہے کہ صدر غنی نے یہ جرگہ ان کی مشاورت کے بغیر بلایا ہے اور اس کے ذریعے وہ ستمبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب سے قبل عوامی نمائندوں کی حمایت حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں۔

صدر غنی رواں سال ہونے والے انتخاب میں دوسری مدت کے لیے عہدۂ صدارت کے امیدوار ہیں۔ لیکن طالبان کے ساتھ جاری امریکہ کے مذاکرات نے انتخابات کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑے کردیے ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ صدر غنی لویہ جرگے کے ذریعے امن مذاکرات پر اثر انداز ہونا چاہتے ہیں اور اس کے ذریعے اپنی صدارت کو دوام بخشنے کے خواہش مند ہیں۔

ان خدشات کے پیشِ نظر حزبِ اختلاف کے کئی سیاست دان مطالبہ کر رہے ہیں کہ صدر غنی آئندہ ماہ اپنے عہدے کی مدت پوری ہوجانے کے بعد عہدہ چھوڑ دیں اور عبوری حکومت قائم کرکے اسے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کا اختیار دے دیں۔ لیکن صدر غنی یہ مطالبہ مسترد کرچکے ہیں۔

افغانستان کی عدالتِ عظمیٰ بھی صدر غنی کو ستمبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات تک اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کی اجازت دے چکی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG