رسائی کے لنکس

افغان صدر کی طرف سے ٹرمپ کے فیصلوں کا خیرمقدم


صدر اشرف غنی (فائل فوٹو)

افغان طالبان نے متنبہ کیا ہے کہ اگر امریکہ جلد افغانستان سے اپنی فوجیں نہیں نکالتا تو یہ اس کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خطے سے متعلق وضع کردہ پالیسی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ افغانستان کے کلیدی شراکت دار کی جانب سے اس عالمی تنازع سے متعلق اس کے بھرپور عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

منگل کو ایک بیان میں صدر غنی کا کہنا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ اور امریکی عوام کے ممنون ہیں جنہوں نے خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کی ہماری مشترکہ کوششوں اور خودانحصاری کی کاوشوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔

افغان صدر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ نئی امریکی حکمتِ عملی خطے میں استحکام اور امن و خوشحالی کے مشترکہ مقاصد کے حصول اور خطے کے ممالک کے لیے غیر ریاستی عناصر کی حمایت ختم کرنے کی واضح راہ متعین کرتی ہے۔

افغان صدر کا مزید کہنا تھا، "ہم سب کو درپیش دہشت گردی کے خطرے پر قابو پانے کے لیے امریکہ اور افغانستان کی شراکت پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ ہماری سکیورٹی فورسز کی قوت سے طالبان اور دیگر کو یہ نظر آنا چاہیے کہ وہ عسکری طور پر فتح یاب نہیں ہو سکتے۔ امن ہمارے لیے بدستور ترجیح ہے۔"

پیر کو صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ افغانستان کے لیے ان کا عزم بدستور امریکہ کے مفاد میں ہے۔

انھوں نے اس بارے میں اپنی حکمت عملی کی وضاحت تو نہیں کی لیکن ان کا کہنا تھا کہ زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے وہاں امریکی فوجیوں کی تعداد کو بڑھانے یا کم کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ جنگ سے تباہ حال اس ملک میں قیام امن کے لیے پرعزم ہے لیکن اس کے لیے افغانستان کو بھی کردار ادا کرنا ہوگا اور امریکی حمایت یا تعاون لامحدود نہیں ہوگا۔

ادھر افغان طالبان کی طرف سے بھی امریکی صدر کے خطاب پر ردِ عمل سامنے آیا ہے جس میں شدت پسندوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر امریکہ جلد افغانستان سے اپنی فوجیں نہیں نکالتا تو یہ اس کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" کو بتایا کہ "فی الوقت میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ ان (ٹرمپ) کی تقریر میں کچھ بھی نیا نہیں تھا اور یہ غیر واضح تھی۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG