رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: جانچ پڑتال، دونوں امیدواروں کے نمائندے شریک


اتوار کے دِن، صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ کی ٹیم کے نمائندے غیر حاضر تھے جب جون میں منعقد ہونے والے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی ایک ہفتے کی تعطیلات کے بعد، دوبارہ شروع ہوئی

افغانستان کے دو صدارتی امیدواروں کے نمائندے جو اب تک دوسرے انتخابی مرحلے کے نتائج کی جانچ پڑتال کے کام میں تعاون سے گریزاں تھے، پیر کے دِن سے بین الاقوامی مبصرین کی موجودگی میں نتائج کی دوبارہ گنتی کے عمل میں شامل ہوگئے ہیں، جب کہ ایک روز قبل تک صرف ایک ہی صدارتی امیدوار کے نمائندے موجود تھے۔

اتوار کے دِن، صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ کی ٹیم کے نمائندے غیر حاضر تھے جب جون میں منعقد ہونے والے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی ایک ہفتے کی تعطیلات کے بعد، دوبارہ شروع ہوئی۔

ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ سابق وزیر خزانہ، اشرف غنی کو ووٹوں میں سبقت حاصل ہے۔ تاہم، دونوں فریق دھاندلی کا الزام لگاتے ہیں۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کے معاون، جسے ’اُناما‘ (یو این اے ایم اے) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے پیر کے روز ایک بیان میں بتایا کہ تقریباً 23000 بیلٹ بکسے کابل لائے گئے ہیں، جِن میں 95 فی صد ووٹ ہیں، تاکہ دھاندلی کے الزامات کے پیش نظر اُن کا نئے سرے سےجائزہ لیا جائے، جب کہ باقی ماندہ بیلٹ بکسے آئندہ چند دِنوں میں پہنچ جائیں گے۔

سترہ جولائی سے اب تک، ٕخودمختار انتخابی کمیشن نے ووٹوں کا ازسرِ نو جائزہ لینے کے لیے 2000سے زائد بیلٹ بکسوں کی دوبارہ گنتی مکمل کر لی ہے۔


’اُناما‘ اور خودمختار انتخابی کمیشن کی طرف سے وضع کردہ 16 نکاتی ’چیک لسٹ‘ کے تحت آڈیٹروں کو بکسوں کی حالت کا جائزہ لینا ہے، آیا بیلٹس کو درست انداز میں ’مارک‘ کیا گیا، یا پھر ’رزلٹ شیٹس‘ میں کسی نقص کا کوئی ثبوت موجود ہے۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ سیاسی غیر یقینی سے افغان معیشت پر خراب اثرات پڑ رہے ہیں اور انتخابی آڈٹ میں تاخیر کے باعث افغانستان کے مستقبل کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG