رسائی کے لنکس

logo-print

ایران میں افغان قیدیوں کو پنجروں میں رکھنے پر کابل کا احتجاج


پنجروں میں بند ان افراد کی تصاویر انٹرنیٹ پر تیزی سی پھیلیں جس سے افغانستان اور انسانی حقوق کی تنظیموں میں طرف سے شدید غصے دیکھنے میں آیا۔

افغانستان کی حکومت نے ایران کی طرف سے متعدد افغانوں کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر انھیں پنجرے میں بند کر کے شیراز شہر کے مرکز میں رکھنے پر احتجاج کیا ہے۔

ایرانی حکام نے تقریباً دو درجن افغان پناہ گزینوں کو ہتھکڑیاں لگا کر ایک بڑے آہنی پنجرے میں ڈالا اور اسے شہر میں ملاحظے کے لیے رکھا۔ ساتھ ہی پولیس نے ان افراد سے قبضے میں لیا گیا اسلحہ، بارودی مواد، منشیات، شراب اور اسمگل شدہ مشروبات بھی رکھے تھے۔

شیراز پولیس کے نائب سربراہ ناصر کشاورز کا کہنا تھا کہ یہ پناہ گزین ان لگ بھگ 200 غیر ملکیوں میں شامل ہیں جو غیر قانونی طریقے سے ایران میں داخل ہونے پر گرفتار کیے گئے۔

پنجروں میں بند ان افراد کی تصاویر انٹرنیٹ پر تیزی سی پھیلیں جس سے افغانستان اور انسانی حقوق کی تنظیموں میں طرف سے شدید غصے دیکھنے میں آیا۔

افغان حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ "مہاجرین کی وزارت اس غیر انسانی اور ہتک آمیز سلوک اور افغان پناہ گزینوں کی شیراز پولیس کے ہاتھوں انسانی وقار کی خلاف ورزی کی شدید مذمت کرتی ہے۔"

بیان میں مزید کہا گیا کہ "یہ برتاؤ کسی شک و شبے کے بغیر انسانی حقوق، 1951ء کے پناہ گزین میثاق اور 1967ء کے پناہ گزینوں کے باہمی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔"

اس بارے میں تاحال ایران کی طرف سے سرکاری طور پر کوئی ردعمل سامنے سامنے نہیں آیا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ایران میں تقریباً 30 لاکھ افغان باشندے مقیم ہیں جن میں سے صرف ساڑھے نو لاکھ ہی باقاعدہ اندارج کے ساتھ پناہ گزین کی حیثیت سے رہ رہے ہیں۔

ایران ہزاروں افغان پناہ گزینوں خاص طور پر شیعہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والوں کو حزب اللہ اور پاسداران انقلاب کی حمایت یافتہ فورسز کے ہمراہ لڑائی کے لیے شام بھی بھیج چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG