رسائی کے لنکس

logo-print

نئی افغان حکومت میں مہاجرین کا کوئی کردار نہیں ہوگا


افغان الیکشن کمیشن کی جانب سے ٹیکنیکل اور لاجسٹک وجوہات کی بناء پر افغان مہاجرین کواس بار ووٹ کا حق استعمال کرنے کی سہولت فراہم نہیں کی گئی۔

ہفتے کو ہونے والی ووٹنگ کے نتیجے میں تشکیل پانے والی نئی افغان حکومت میں پاکستان ، مشرق وسطیٰ، یورپ اور ایران سمیت دنیا بھر میں مقیم لاکھوں افغان مہاجرین کا کوئی فعال کردار نہیں ہوگا کیوں کہ یہ حکومت ان کے رائے دہی کے حق کو استعمال کئے بغیر وجود میں آئے گی۔

سن 2003ء کے انتخابات کی طرح اس بار بھی ان لاکھوں مہاجرین کے لئے ووٹنگ کے انتظامات نہیں ہوسکے۔

افغان شہریوں کی دو نسلیں ایسی ہیں جنہوں نے پاکستان میں آنکھ کھولی اور ان میں سے بیشتر اب تک یہیں مقیم ہیں۔ بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخواہ اور پنجاب۔۔۔ چاروں صوبوں میں یہ آباد ہیں تاہم خیبر پختونخواہ میں ان کی اکثریت ہے۔

سندھ میں کراچی افغان مہاجرین کی سب سے بڑی آماجگاہ ہے لیکن ہفتے کا دن یہاں کوئی انتخابی گہماگہمی پیدا نہ کرسکا۔

موجودہ افغان حکومت اور الیکشن کمیشن کی جانب سے پاکستان سمیت مشرق وسطیٰ، یورپ اور ایران میں مقیم اپنے شہریوں کے لئے ووٹنگ کے انتظامات نہیں کئے گئے تھے اس لئے لاکھوں افغان مہاجرین اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کرسکے۔

کراچی کے جن علاقوں میں افغانیوں کی اکثریت مقیم ہے ان میں سب سے نمایاں نام افغان بستی کا ہے جو سہراب گوٹھ سے کچھ فاصلے پر سپر ہائی وے کے قریب واقع ہے۔ اس بستی کو منی افغانستان بھی کہا جاتا ہے۔ ووٹنگ کا حق استعمال نہ کرنے پر یہاں کے اکثر باشندے ناراض ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ سہولت ملنی چاہئے تھی۔

افغان امور پر گہری نظر رکھنے والے ایک سنیئر صحافی محمد اسلم نے 'وی او اے' کو بتایا، ”افغان بستی کے باشندوں کا رہن سہن، طرز معاشرت اور بود و باش کو دیکھ کر ہی یہ محسوس ہوتا ہے جیسا آپ کراچی کے بجائے افغانستان کے کسی علاقے میں آگئے ہوں۔ کراچی کے موجودہ حالات کے سبب یہاں تک رسائی اب کچھ مشکل ہوگئی ہے ورنہ ضیاء الحق دور میں شہر اور ملک کا ہر شخص یہاں آزادانہ طور پر آجاسکتا تھا"۔

کراچی کے ایک دیرینہ شہری نور محمد آفریدی نے 'وی او اے' کو بتایا، ”افغان بستی اب چھوٹی بات ہے۔ پچھلے دس پندرہ سالوں میں شہر کے متعدد علاقے افغان مہاجرین کے ٹھکانوں میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ گڈاپ، ملیر، کیماڑی، لانڈھی، مہاجر کیمپ، ہائی وے، ٹول پلازہ، الآصف اسکوائر، مچھر کالونی، گل احمد چورنگی لانڈھی، بلال کالونی، کیماڑی، گلشن، دسان روڈ، جیکسن، سلطان آباد، پرانا حاجی کیمپ اور اورنگی ٹاوٴن ۔۔۔یہ سب وہ علاقے ہیں جہاں افغانی مقیم ہیں۔“

ایک افغان شہری نے اپنا نام نہ بتاتے ہوئے وی او اے کے نمائندے سے تبادلہ خیال میں کہا، ”افغان شہری نہ تو پاکستان میں ووٹ ڈال سکتے ہیں اور نہ ہی افغانستان میں۔ یہاں تو ا ب ہم شناختی کارڈ بھی نہیں بنواسکتے، واپس جانا چاہتے ہیں لیکن وہاں کے حالات سب کو پتہ ہیں، اس لئے مجبور ہیں۔ ہمارے ووٹوں سے ویسے بھی کوئی انقلاب نہیں آنے والا"۔

نمائندے کو موصولہ اطلاعات کے مطابق افغان الیکشن کمیشن کی جانب سے ٹیکنیکل اور لاجسٹک وجوہات کی بناء پر افغان مہاجرین کواس بار ووٹ کا حق استعمال کرنے کی سہولت فراہم نہیں کی گئی۔

اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین (یواین ایچ سی آر) کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صرف 17 لاکھ افغان مہاجرین رجسٹرڈ ہیں جبکہ غیر رجسٹرڈ افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔
XS
SM
MD
LG